536
وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی
ابھی تو رنگ جما تھا کہ رات بیت گئی
مری طرف چلی آتی ہے نیند خواب لیے
ابھی یہ مژدہ سنا تھا کہ رات بیت گئی
میں رات زیست کا قصہ سنانے بیٹھ گیا
ابھی شروع کیا تھا کہ رات بیت گئی
یہاں تو چاروں طرف اب تلک اندھیرا ہے
کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ رات بیت گئی
یہ کیا طلسم یہ پل بھر میں رات آ بھی گئی
ابھی تو میں نے سنا تھا کہ رات بیت گئی
شب آج کی وہ مرے نام کرنے والا ہے
یہ انکشاف ہوا تھا کہ رات بیت گئی
نوید صبح جو سب کو سناتا پھرتا تھا
وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ رات بیت گئی
اٹھے تھے ہاتھ دعا کے لیے کہ رات کٹے
دعا میں ایسا بھی کیا تھا کہ رات بیت گئی
خوشی ضرور تھی تیمورؔ دن نکلنے کی
مگر یہ غم بھی سوا تھا کہ رات بیت گئی
تیمور حسن تیمور
