117
شاید سمجھ رہے ہیں ہمارا خدا نہیں
وہ ظلم ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔
ملت کسے پکارے صدا کس کی اب سنے
سب رہنما ہیں اور کوئی رہنما نہیں
اب کشتیاں جلا کے کفن سر سے باندھ لو
اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں
دریا کی سازشوں میں تھا ملّاح بھی شریک
ورنہ مرا سفینہ کبھی ڈوبتا نہیں
دہشت نے سب کی قوتِ گویائی چھین لی
سب ظلم سہہ رہے ہیں کوئی بولتا نہیں
ڈاکٹر طارق قمر
