100
دسترس نہیں جس پر وہ جہاں خریدا ہے
بیچ کر زمیں اپنی آسماں خریدا ہے
مقصد ایک جیسا ہے، بات ایک جیسی ہے
یا یقین بیچا ہے یا گماں خریدا ہے
دیکھیے کہ ہوتی ہے کب یہ آرزو پوری
جو خریدنا چاہا وہ کہاں خریدا ہے
جس میں دفن ہے میری آرزوؤں کی میّت
آج میرے بیٹے نے وہ مکاں خریدا ہے
کل کی میزبانی میں تھا خلوصِ دل شامل
آج کا یہ عالم ہے، میزباں خریدا ہے
سچ کہا ولیؔ تم نے بیچ کر اَنا اپنی
ہم نوا خریدا ہے، ہم زباں خریدا ہے
ولی اللّٰہ ولی
