خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےآرٹسٹ لوگ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

آرٹسٹ لوگ

ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 11, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 11, 2019 0 تبصرے 497 مناظر
498

آرٹسٹ لوگ

جمیلہ کو پہلی بار محمود نے باغ جناح میں دیکھا۔ وہ اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھی۔ سب نے کالے برقعے پہنے تھے۔ مگر نقابیں اُلٹی ہوئی تھیں۔ محمود سوچنے لگا۔ یہ کس قسم کا پردہ ہے کہ برقع اوڑھا ہوا ہے۔ مگر چہرہ ننگا ہے آخری اس پردے کا مطلب کیا؟ محمود جمیلہ کے حسن سے بہت متاثر ہوا۔

وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی جارہی تھی۔ محمود اُس کے پیچھے چلنے لگا اُس کو اس بات کا قطعاً ہوش نہیں تھا کہ وہ ایک غیر اخلاقی حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اُس نے سینکڑوں مرتبہ جمیلہ کو گھور گھور کے دیکھا۔ اس کے علاوہ ایک دو بار اُس کو اپنی آنکھوں سے اشارے بھی کیے۔ مگر جمیلہ نے اسے درخور اعتنانہ سمجھا اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ اُس کی سہیلیاں بھی کافی خوبصورت تھیں۔ مگر محمود نے اُس میں ایک ایسی کشش پائی جو لوہے کے ساتھ مقناطیس کی ہوتی ہے وہ اس کے ساتھ چمٹ کر رہ گیا۔

ایک جگہ اُس نے جرأت سے کام لے کر جمیلہ سے کہا۔ ’’ حضور اپنا نقاب تو سنبھالیے ہوا میں اُڑ رہا ہے۔‘‘ جمیلہ نے یہ سُن کر شور مچانا شروع کر دیا۔ اس پر پولیس کے دو سپاہی جو اس وقت باغ میں ڈیوٹی پر تھے، دوڑتے آئے۔ اور جمیلہ سے پوچھا۔ ’’ بہن کیا بات ہے ‘‘؟ جمیلہ نے محمود کی طرف دیکھا جو سہما کھڑا تھا اور کہا ’’ یہ لڑکا مجھ سے چھیڑ خانی کررہا تھا جب سے میں اس باغ میں داخل ہوئی ہوں، یہ میرا پیچھا کررہا ہے۔ سپاہیوں نے محمود کا سرسری جائزہ لیا اور اس کو گرفتار کر کے حوالات میں داخل کر دیا لیکن اُس کی ضمانت ہوگئی۔

اب مقدمہ شروع ہوا اس کی روئداد میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ یہ تفصیل طلب ہے قصہ مختصر یہ ہے کہ محمود کا جرم ثابت ہوگیااور اُسے دو ماہ قید با مشقت کی سزا مل گئی۔ اُس کے والدین نادار تھے۔ اس لیے وہ سیشن کی عدالت میں اپیل نہ کرسکے۔ محمود سخت پریشان تھا کہ آخر اس کا قصور کیا ہے اس کو اگر ایک لڑکی پسند آ گئی تھی اور اُس نے اُس سے چند باتیں کرنا چاہیں تو یہ کیا جرم ہے ، جس کی پاداش میں وہ دو ماہ قید با مشقت بھگت رہا ہے۔

جیل خانے میں وہ کئی مرتبہ بچوں کی طرح رویا اس کو مصوری کا شوق تھا، لیکن اس سے وہاں چکی پسوائی جاتی تھی۔ ابھی اُسے جیل خانے میں آئے بیس روز ہی ہوئے تھے کہ اُسے بتایا گیا کہ اُس کی ملاقات آئی ہے محمود نے سوچا کہ یہ ملاقاتی کون ہے ؟ اُس کے والد تو اُس سے سخت ناراض تھے۔ والدہ اپاہج تھیں اور کوئی رشتے دار بھی نہیں تھے۔

سپاہی اسے دروازے کے پاس لے گیا جو آہنی سلاخوں کا بنا ہوا تھا۔ ان سلاخوں کے پیچھے اُس نے دیکھا کہ جمیلہ کھڑی ہے وہ بہت حیرت زدہ ہوا اُس نے سمجھا کہ شاید کسی اور کو دیکھنے آئی ہو گی۔ مگر جمیلہ نے سلاخوں کے پاس آ کر اُس سے کہا ’’میں آپ سے ملنے آئی ہوں ‘‘ محمود کی حیرت میں اور بھی اضافہ ہوگیا ’’ مجھ سے ‘‘ ’’ جی ہاں میں معافی مانگنے آئی ہوں کہ میں نے جلد بازی کی۔ جس کی وجہ سے آپ کو یہاں آنا پڑا۔ ‘‘

محمود مسکرایا۔ ’’ ہائے اس زُودِ پشیماں کا پشیماں ہونا۔ ‘‘ جمیلہ نے کہا۔ ’’ یہ غالبؔ ہے۔ ‘‘؟ ’’جی ہاں۔ غالبؔ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جو انسان کے جذبات کی ترجمانی کرسکے میں نے آپ کو معاف کر دیا لیکن میں یہاں آپ کی کوئی خدمت نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ یہ میرا گھر نہیں ہے سرکار کا ہے اس کے لیے میں معافی کا خواستگار ہوں۔ ‘‘ جمیلہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’ میں آپ کی خادمہ ہوں۔‘‘

چند منٹ ان کے درمیان اور باتیں ہوئیں، جو محبت کے عہد و پیمان تھیں جمیلہ نے اُس کو صابن کی ایک ٹکیہ دی۔ مٹھائی بھی پیش کی اس کے بعد وہ ہر پندرہ دن کے بعد محمود سے ملاقات کرنے کے لیے آتی رہی۔ اس دوران میں ان دونوں کی محبت استوار ہوگئی۔

جمیلہ نے محمود کو ایک روز بتایا۔ ’’ مجھے موسیقی سیکھنے کا شوق ہے آج کل میں خاں صاحب سلام علی خاں سے سبق لے رہی ہوں ‘‘۔ محمود نے اُس سے کہا۔ ’’ مجھے مصوری کا شوق ہے مجھے یہاں جیل خانے میں اور کوئی تکلیف نہیں مشقت سے میں گھبراتا نہیں۔ لیکن میری طبیعت جس فن کی طرف مائل ہے اُس کی تسکین نہیں ہوتی۔ یہاں کوئی رنگ ہے نہ روغن ہے۔ کوئی کاغذ ہے نہ پنسل بس چکی پیستے رہو۔ ‘‘

جمیلہ کی آنکھیں پھر آنسو بہانے لگیں۔ ’’ بس اب تھوڑے ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔
آپ باہر آئیں۔ تو سب کچھ ہو جائے گا۔ محمود دو ماہ کی قید کاٹنے کے بعد باہر آیا تو جمیلہ دروازے پر موجود تھی اس کالے برقعے میں جو اب بھوسلا ہوگیا تھا اور جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ دونوں آرٹسٹ تھے۔ اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ شادی کر لیں چنانچہ شادی ہوگئی۔ جمیلہ کے ماں باپ کچھ اثاثہ چھوڑگئے تھے اس سے انھوں نے ایک چھوٹا سا مکان بنایا اور پُر مسرت زندگی بسر کرنے لگے۔

محمود ایک آرٹ سٹوڈیو میں جانے لگا تاکہ اپنی مصوری کا شوق پورا کرے جمیلہ خاں صاحب سلام علی خاں سے پھر تعلیم حاصل کرنے لگی۔ ایک برس تک وہ دونوں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ محمود مصوری سیکھتا رہا اور جمیلہ موسیقی۔ اس کے بعد سارا اثاثہ ختم ہوگیا اور نوبت فاقوں پر آگئی۔ لیکن دونوں آرٹ شیدائی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ فاقے کرنے والے ہی صحیح طور پر اپنے آرٹ کی معراج تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی اس مفلسی کے زمانے میں بھی خوش تھے۔

ایک دن جمیلہ نے اپنے شوہر کو یہ مژدہ سنایا کہ اسے ایک امیر گھرانے میں موسیقی سکھانے کی ٹیوشن مل رہی ہے۔ محمود نے یہ سُن کر اُس سے کہا۔ ’’نہیں ٹیوشن ویوشن بکواس ہے ہم لوگ آرٹسٹ ہیں ‘‘۔ اس کی بیوی نے بڑے پیار کے ساتھ کہا ’’ لیکن میری جان گزارہ کیسے ہوگا ؟‘‘ محمود نے اپنے پھوسڑے نکلے ہوئے کوٹ کا کالر بڑے امیرانہ انداز میں درست کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ آرٹسٹ کو ان فضول باتوں کا خیال نہیں رکھنا چاہیے۔ ہم آرٹ کے لیے زندہ رہتے ہیں آرٹ ہمارے لیے زندہ نہیں رہتا ‘‘۔

جمیلہ یہ سن کر خوش ہوئی ، ’’ لیکن میری جان آپ مصوری سیکھ رہے ہیں آپ کو ہر مہینے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کا بندوبست بھی تو کچھ ہونا چاہیے پھر کھانا پینا ہے۔ اس کا خرچ علیحدہ ہے۔ ‘‘ ’’میں نے فی الحال موسیقی کی تعلیم لینا چھوڑ دی ہے جب حالات موافق ہوں گے تو دیکھا جائے گا۔ ‘‘

دوسرے دن جمیلہ گھر آئی تو اُس کے پرس میں پندرہ روپے تھے جو اُس نے اپنے خاوند کے حوالے کر دئیے اور کہا ’’ میں نے آج سے ٹیوشن شروع کر دی ہے ، یہ پندرہ روپے مجھے پیشگی ملے ہیں آپ مصوری کا فن سیکھنے کا کام جاری رکھیں ‘‘ محمود کے مردانہ جذبات کو بڑی ٹھیس لگی۔ ’’ میں نہیں چاہتا کہ تم ملازمت کرو ملازمت مجھے کرنا چاہیے۔ ‘‘

جمیلہ نے خاص انداز میں کہا۔ ’’ ہائے میں آپ کی غیر ہوں۔ میں نے اگر کہیں تھوڑی دیر کے لیے ملازمت کر لی ہے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے بہت اچھے لوگ ہیں۔ جس لڑکی کو میں موسیقی کی تعلیم دیتی ہوں ، بہت پیاری اور ذہین ہے۔ ‘‘
یہ سُن کر محمود خاموش ہوگیا۔ اس نے مزید گفتگو نہ کی۔

دوسرے ہفتے کے بعد وہ پچیس روپے لے کر آیا اور اپنی بیوی سے کہا ’’ میں نے آج اپنی ایک تصویر بیچی ہے خریدار نے اُسے بہت پسند کیا۔ لیکن خسیس تھا۔ صرف پچیس روپے دئیے۔ اب اُمید ہے کہ میری تصویروں کے لیے مارکیٹ چل نکلے گی۔جمیلہ مسکرائی۔ تو پھر کافی امیر آدمی ہو جائیں گے ‘‘ محمود نے اُس سے کہا ’’جب میری تصویریں بکنا شروع ہو جائیں گی تو میں تمھیں ٹیوشن نہیں کرنے دُوں گا۔‘‘ جمیلہ نے اپنے خاوند کی ٹائی کی گرہ درست کی اور بڑے پیار سے کہا ’’ آپ میرے مالک ہیں جو بھی حکم دیں گے مجھے تسلیم ہوگا۔

دونوں بہت خوش تھے اس لیے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ محمود نے جمیلہ سے کہا۔ ’’ اب تم کچھ فکر نہ کرو۔ میرا کام چل نکلا ہے چار تصویریں کل پرسوں تک بک جائیں گی اور اچھے دام وصول ہو جائیں گے۔ پھر تم اپنی موسیقی کی تعلیم جاری رکھ سکو گی۔ ‘‘ ایک دن جمیلہ جب شام کو گھر آئی تو اُس کے سر کے بالوں میں دُھنکی ہوئی رُوئی کا غبار اس طرح جما تھا جیسے کسی ادھیڑ عمر آدمی کی داڑھی میں سفید بال۔ محمود نے اُس سے استفسار کیا۔ ’’ یہ تم نے اپنے بالوں کی کیا حالت بنا رکھی ہے موسیقی سکھانے جاتی ہو یا کسی جننگ فیکٹری میں کام کرتی ہو‘‘

جمیلہ نے ، جو محمود کی نئی رضائی کی پرانی روئی کو دُھنک رہی تھی مسکرا کر کہا۔ ’’ ہم آرٹسٹ لوگ ہیں۔ ہمیں کسی بات کا ہوش بھی نہیں رہتا ‘‘ محمود نے حقے کی نے منہ میں لے کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور کہا۔ ’’ ہوش واقعی نہیں رہتا ‘‘ جمیلہ نے محمود کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کی۔ ’’ یہ دُھنکی ہوئی رُوئی کا غبار آپ کے سر میں کیسے آگیا ‘‘؟ محمود نے حقے کا ایک کش لگایا۔ ’’ جیسا کہ تمہارے سر میں موجود ہے ہم دونوں ایک ہی جننگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں صرف آرٹ کی خاطر۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اردو بازار کے بزنس ٹائیکون
  • ملازمت بہتر یا کاروبار
  • پاک بحریہ کا کارنامہ
  • جنگلی بلیاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی
پچھلی پوسٹ
کب محض تسکینِ جان و دِل

متعلقہ پوسٹس

احساس محرومی

جنوری 12, 2026

عالمی دیگ

مارچ 1, 2026

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

پسینہ

جنوری 24, 2020

جج کرنا مناسب نہیں

مئی 14, 2025

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

محسن سے ڈاکٹر محسن خالد محسن ؔ تک

مئی 30, 2026

اللہ دتا

مارچ 21, 2018

نومی

فروری 5, 2022

مذہب میں دلچسپی

جنوری 5, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سنا ہے عالم بالا میں کوئی...

جنوری 3, 2020

سعادت حسن منٹو کوئز

اپریل 13, 2025

ہینڈ میڈ نظمیں

ستمبر 20, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں