خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانومی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

نومی

از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022
از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022 0 تبصرے 51 مناظر
52

وہ عجیب تھی۔ جسم دیکھیے تو ایک لڑکی سی معلوم ہوتی، چہرے پر نظر ڈالیے تو بالکل بچی سی دکھائی دیتی اور اگر آنکھوں میں اترجائیے تو ساری سموچی عورت انگڑائیاں لیتی ملتی۔ وہ سرخ اونچا سا فراک اور سیاہ سلیکس پہنے جگمگارہی تھی اور سیاہ گھنگھرالے بالوں کو جھٹک جھٹک کر ’’جیپ‘‘ میں اپنے سامان کاشمار کر رہی تھی اور میرے سامنےایک دوپہر کھلی پڑی تھی۔اس نےآنگن میں قدم رکھتے ہی اپنی ممی سے بھیا کے لیے پوچھا تھا۔ اونچے بغیر آستین کے بلاؤز اور نیچی چھپی ہوئی ساڑی میں کسی بندھی آنٹی نے،جنھیں ابھی اپنے بدن پر ناز تھاچمک کر بھیا کومخاطب کیا،’’نومی پوچھ رہی ہے کہ تم کون ہو؟‘‘

بھیا نے اداس چہرے پر سلیقے سے رکھی ہوئی رنجور آنکھیں چشمے کے اندر گھمائیں۔ روکھے سوکھے بالوں پر دبلا پتلا گندمی سا ہاتھ پھیرا۔ انکل نے بڑے سے بیگ کو تخت پر پٹکا۔ پیک تھوکنے کے لیے اگلدان پر جھکے اور بھیا بھاری آواز میں بولے۔ بھیا کی آواز ان کی شخصیت کو اور منفرد بنادیتی ہے۔ غم میں بسی ہوئی کھوجدار آواز سے ہلکا ہلکا دھواں سا اٹھتا رہتا ہے اور جسے سن کر اجنبیت احساس کمتری بن جاتی ہے اور خواہ مخواہ متعارف ہونے کو جی چاہتا ہے،’’بہت چھوٹی سی تھی جب دیکھا تھا اس نے‘‘

اور نومی کو اس طرح دیکھا جیسے کیلنڈر کو دیکھ رہے ہوں۔ جواب اس طرح دیا جیسے آنٹی سے کہہ رہے ہوں اسے بکس میں رکھ لیجیے ورنہ خراب ہوجائے گا دیہات میں، اور نومی بے چاری بھیا کی آواز میں شرابور کھڑی تھی۔ اس کی نظریں بھیا کے چہرے میں پیوست ہوچکی تھیں۔ انکل پکا گانا گانے والوں کی طرح کھنکار کر بولے،’’بیٹی۔۔۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ وہاں گاؤں میں جہاں تم شادی میں جارہی ہو تمہارے ایک کزن ہیں جو بہت سی کتابوں کے ’’آتھر ہیں۔۔۔ وہی تو ہیں یہ۔‘‘

بھابی جو نند کی شادی میں بھیا سے زیادہ اپنا آپا کھوئے بیٹھی تھیں ایک طرف سے بڑبڑاتی نکلیں اور بھیا کو لیے دوسری طرف چلی گئیں اور بھیا نے بے خیالی میں بھی، نومی کی نگاہیں بھی اپنے ساتھ ہی لیے چلے گیے۔ اور وہ بے چاری خالی خالی آنکھیں لیے گم سم کھڑی رہی،’’جلدی کیجیے۔۔۔ پانی لداکھڑا ہے۔‘‘ پھاٹک سے کسی نے ہانک لگائی۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سارے میں سیاہ جامنی بادل چھائےہوئے تھے اور اندھیرا پھیلا ہوا تھا جیسے سورج کی بجلی فیل ہوگئی ہو۔ اس دن بھی ایسا ہی دل مسوس ڈالنے والاموسم تھا۔

ابھی بارات آنےمیں کئی دن باقی تھے لیکن مکان کا کوناکونا مہمانوں سے چھلک پڑا تھا۔ نہ کہیں تل رکھنےکی جگہ تھی اور نہ کسی کو دم مارنے کی مہلت۔ ایک تو برسات کی شادی وہ بھی دیہات میں اور دیہات بھی ایسا کہ سڑک پر ’’جیپ‘‘ دھنسی کھڑی ہے اور نکالنے کے لیے بیلوں کی جوڑیاں بھیجی جارہی ہیں۔ کام تو جیسے آسمان سے پانی کی طرح برس رہاتھااور بھیا کا یہ حال تھاکہ پاویں تو اپنی کھال تک اتار کر اپنی بہن کے جہیز میں دے ڈالیں۔ ابھی جوڑے نہاررہے ہیں۔ ابھی ’’تخت وار‘‘ دیکھ رہے ہیں۔ ابھی شامیانے کےقناتوں کے انجام پر سوچ رہے ہیں۔ میں پیڈاور قلم لیے موجود رہتی۔ خطوط پر چے اور یادداشتیں لکھنے کو حاضر رہتی۔ دالان میں یہاں سے وہاں تک چوکا لگا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی بیبیاں سالخوردہ کپڑوں کے بجھے رنگوں میں اپنا بھرم بنائے خاموشی سے کھانا کھا رہی تھیں۔ چمچے پلیٹوں سے ٹکراتے، خاموشی کھنک اٹھتی تو عجیب سا لگتا۔ کہ بھیا باہر سے آگیے۔

’’ارے یہ ہماری نومی جی جی کھڑی کیوں ہے۔‘‘

نومی ایک ایک ستون کے پہلو میں کھڑی پلیٹ میں چمچا گھمارہی تھی۔ اس نے مڑ کر بھیا کو دیکھا۔ بھیا کے بالکل پیچھے آکر اس کی پلیٹ میں جھانکنے لگے اورنومی جاگ اٹھی۔ کھل گئی۔ لو دینے لگی۔ گردن پیچھے جھکاکر اپنے ڈھیروں بال بھیا کے سینے پر انڈیل دیے اور آنکھوں میں آنکھیں رکھ دیں۔ بھیا بچوں کی طرح پلکیں جھپکانےلگے اور نومی کی آنکھوں کو اپنی کھوئی ہوئی نظریں مل گئیں۔ کسی نے بھیا سے کھانےکو پوچھا تو کہیں دور سے آواز آئی،’’نہیں باہر تو نہیں کھایا میں نے۔‘‘

اور نومی بیسیوں کی صف چیر کر ایک پلیٹ میں الم غلم بھر لائی اور ایک چمچہ ان کے منہ کی طرف بڑھایا۔ بیسیوں کے وجود پر منڈھی ہوئی نیستی کی چادریں مسک گئیں۔ ہونٹوں کی بھولی بسری مسکراہٹیں یاد آنے لگیں۔ بھابی نے یہ تماشا دیکھا تو ایک کرسی لاکر رکھ دی۔ نومی نے ٹھنک کرکہا،’’نئیں نئیں۔۔۔ میں اپنے بھیا کو بوفے کھلاؤں گی۔‘‘ اور بھیاسچ مچ سعید بچوں کی طرح کھاتے رہے۔ دکھوں کے دلدل میں گردن گردن تک دھنسی ہوئی زندگیاں جو خوشی کے بہانوں کے انتظار میں بوڑھی ہوگئی تھیں، اس معمولی سے مذاق پر خوب ہنسیں۔ آنٹی کے تو اچھو لگ گیا۔ بھیا قہقہوں میں بھیگ گیے۔

اب رخصت ہونے والوں اور رخصت کرنے والوں کی بھیڑ چھوٹے سے جلوس کے مانند ڈیوڑھی سے نکل رہی تھی۔ گوری چٹی، گول مٹول آنٹی جیسے پھوٹی پڑ رہی ہوں بھیا ان کو پہلو میں لیے آرہے تھے جیسے پگھلے جارہے تھے اور نومی بغیر کسی مصروفیت کے مصروف لگ رہی تھی۔ دور سے آتی ہوئی باتوں کی پھوار سے اپنا آپ بچائے پھر رہی تھی اور اس کی آنکھیں جن میں بڑے بڑے ہاتھی ڈوب جاتے اور گہری ہوگئی تھیں اور میری یادوں کی فلم میں نئی ریل لگ گئی تھی۔

رات چڑھ چکی تھی۔ باہر سے گانےبجانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ لڑکوں کے قہقہے سارے میں پھیلے ہوئے تھے۔ گاؤں کی عورتیں شوخ رنگ کے کڑھے ہوئے پیٹی کوٹ اور سنتھٹک ساڑیاں پہنےگہرا اور بھدا میک اپ کیے اپنے بدنما زیوروں اور خوشنما جسموں کی پریڈ کر رہی تھیں۔ ان کی آوازیں ’’سیلزمین‘‘ کی مصنوعی مسکراہٹ کی طرح شوخیوں سے سجی ہوئی تھیں۔ ’’مایوں‘‘ بیٹھی ہوئی آپا کی صحنچی کے سامنے ان کا ایک گروہ پچمیل آواز میں گیت گا رہاتھا اور میں سمجھنےکی کوشش کر رہی تھی۔ صحن میں پلنگوں کی قطاریں بچھی تھیں۔ کونےکے تخت پر پچیسی ہو رہی تھی اور اودھم مچا ہوا تھا۔ نومی کے قہقہے دھنک میں سرخی کی طرح نمایاں تھے۔ بھابی اپنے بچوں کو سلانے کےلیے لاٹھی چارج کر رہی تھیں کہ بھیا آئے اور سرجھکائے ہوئے زینے کی طرف جانے لگے کہ آنٹی نےآواز دی۔

’’رشن!۔۔۔ شطرنج کھیلو گے۔‘‘

بھیا جہاں تھے وہیں جم گیے۔ آنٹی کےاٹھتے ہی شور ہوا۔ لڑکیاں بھرا مار کر زینے کی طرف دوڑیں جیسے شطرنج نہیں مجرا ہونے جارہا ہے۔ بھیا کے کمرے میں جہاں بھابی تک بغیر اجازت اور ضرورت کے داخل نہ ہوتی تھیں، طوفان مچ گیا۔ تخت پر بھیا اور آنٹی شطرنج لے کر بیٹھ گیے اور لڑکیاں جہاں تہاں سماں گئیں۔ بھیا کی پشت پر دیوار تھی۔ داہنی طرف گاؤ۔ بائیں طرف نومی۔ دیوار میں لگے لیمپ کی گلابی روشنی میں سب کچھ پراسرار سا معلوم ہو رہا تھا ہر مہرے کے پٹنے پر مات کی طرح شور مچتا۔ نومی، چونچال نومی آہستہ آہستہ جگہ بنارہی تھی اور پاؤں پھیلا رہی تھی۔ بھیا نے چونک کر دیکھا، ان کے زانو پر نومی کے بال ڈھیر تھے۔ پھر بھیا کا ہاتھ بالوں پر لرزنے لگاجیسے وہ نومی کےنہیں خود انھیں کے بال ہوں۔ پھر اچانک بھیا نے ہاتھ کھینچ لیا اور جگہ ڈھونڈ کر تخت پر رکھ دیا۔ نومی نےپھر کروٹ لی اور نوکیلے سرخ ناخنوں سے سجی ہوئی انگلیاں بھیا کے ہاتھ کی ابھری رگوں پر لرزنےلگیں جیسے تھکے ہوئے سرخاب جھیل میں تیر رہے ہوں۔ پھر لیمپ بھبک کر گل ہوگیا۔ سب ہڑبڑاگیے۔ جب روشنی ہوئی تو دوہ گھٹنوں پر کھڑی بھیا کے بائیں شانے سے لگی ہوئی تھی اور بھیا کا چہرہ تمتما رہاتھا۔ آنکھیں بساط پر لیکن نگاہیں کہیں اور تھیں۔ آنٹی نے تالی بجاکر شور مچایا۔ بھیا وہ بازی بھی ہار گیے تھے۔

’’تم آج بھی میری ہار پر اس طرح خوش ہوسکتی ہو یہ معلوم نہ تھا ورنہ بہت پہلے ہارچکا ہوتا۔‘‘بھیا نے پہلی بار آنٹی کو تم کہا تھا۔ آنٹی بجھ گئی تھیں اور ان کی نظریں معافی مانگ رہی تھیں اور بھیا کے ہونٹوں نے جلدی سے اپنی پرانی مصنوعی مسکراہٹ پہن لی تھی۔

جلوس جیپ کے گرد آکر منتشر ہوگیا تھا۔ میں سب سے الگ کھڑی سب کے چہروں سےدلوں کے مضمون پڑھ رہی تھی۔ انکل نے اسٹیرنگ سنبھال لیا۔ انجن غرانے لگا۔ آنٹی بھیاکے پہلو سے پھسل کرانکل کے پاس بیٹھ گئیں۔ بھیا نے جھک کر ان کی ساڑی کافال ہک سے چھڑادیا۔ آنٹی اورگلابی ہوگئیں اور پرس سے گاگلز نکال کر جلدی سے آنکھیں جھپکالیں۔نومی بیتی رات کے باسی آنسوؤں سے چمچماتی آنکھیں سب کے چہروں میں چھپاتی گھوم رہی تھی لیکن بھیا کے پاس اس طرح گزر جاتی جیسے وہ بھیا نہیں کوئی اجنبی ہوں اور بھیا تو اس کے لیے اجنبیوں سے بھی بدتر ہوگیے تھے۔

اس رات پانی آفت مچائے تھا اور میراثنیں قیامت ڈھائے تھیں۔ پرنالوں اور گیتوں کے شور میں نہ کچھ سنتے بنتا تھا اور نہ سوچتے۔ میری نگاہ اوپر اٹھ گئی۔ بھیا کے کمرے میں تیز روشنی ہو رہی تھی۔ معلوم نہیں وہ کس وقت باہر سےآگیے تھے۔ میں بھیگتی بھاگتی اوپر پہنچی تو دیکھا نومی بھیا کی مسہری پر دونوں تکیے پشت سے لگائے کتابیں اور رسالے پھیلائے بھیا ہی کی طرح نیم دراز ہے۔ مجھے دیکھتے ہی گھبراگئی جیسے چوری کرتے پکڑی گئی ہو۔ بھیاکا البم بھینک کر کھڑی ہوگئی۔

’’آپا۔۔۔ آئیے۔‘‘

میں نے اسے مسہری پر بٹھادیا اور خود نیچی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اور اسے دیکھنے لگی جو شفق کی طرح شوخ اور شاداب تھی۔ سرمے کی لکیریں لپ سٹک کی تازگی، روز کا غبار، بغیر شمیز کے کلف لگے کرتے کی استری، جلد بدن بنایا ہوا پائجامہ، گلے میں سرخ دوپٹے کامفلر، بالوں میں پھول کی طرح کھلی ہوئی سرخ ربن کی گرہ۔ وہ سر سے پاؤں تک بے پناہ تھی۔

’’آپا۔۔۔ میں بھیاکی کتابیں پڑھتی ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتیں۔‘‘

اتنے میں بھیگے ہوئے بھیا آگیے۔

’’ارے تم لوگ ابھی تک جاگ رہی ہو بھائی۔‘‘انہوں نے کھونٹی سے سلیپنگ سوٹ اتار لیا۔

’’آپ کو نیندآرہی ہے؟‘‘ بھیا نے جواب میں مڑ کر نومی کو دیکھا اور میں نے انھیں، آنکھیں اسی طرح رنجور اور معصوم اور نگاہ اسی طرح بے نیاز۔

’’نہیں تو۔۔۔ لیکن کیوں؟‘‘اور وہ پردے کے پیچھے کپڑے بدلنےچلے گئے۔

’’میں آپ سے پڑھوں گی۔‘‘

’’کیا پڑھو گی بھائی؟‘‘

’’آپ ہی کو پڑھوں گی۔‘‘

وہ اس طرح جواب دے رہی تھی جیسے وہ بھیا سے نہیں اپنی ہمجولی سے مخاطب ہو۔

’’اور جو نیند آئی تو۔۔۔؟‘‘

’’تو۔۔۔ یہیں سو جاؤں گی، اسی تخت پر۔‘‘

بھیا پردے سے باہر نکل آئے تھے۔ ہونٹوں پر اسی غمناک مسکراہٹ کی مہر لگی تھی۔

’’اور آنٹی کہیں گی میری بیٹی کو تخت پر لٹاکر اکڑا دیا۔‘‘

’’میں صرف آپ کی آنٹی کی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔ نومی بھی ہوں۔‘‘

میں سن ہو کر رہ گئی۔ پھر میں نے سنا۔ نیچے سے کوئی مجھے چیخ چیخ کر پکار رہاتھا، میں اٹھی تو بھیا نے حکم دیا۔

’’جی جی! تم بھی یہیں لیٹنا آکر۔‘‘

جب میں واپس آئی تو دیکھا لیمپ جل رہا ہے۔ شیڈ بھیاکی طرف ہے۔ تخت پرنومی سو رہی ہے اور اس کے بدن کی قیامت جاگ رہی ہے۔ میں نے اس کا کرتا نیچے کھینچ دیا اور کرسی کا گدا سرہانےرکھ کر اسی کے پاس لیٹ رہی۔ آنکھیں بند کیے مردوں کی طرح پڑی رہی۔ پھر نہ جانے کیوں خراٹے لینے لگی جن کی شکایت آج بھی نومی نے کی تھی۔ میں آپ ہی آپ مسکرادی پھر چہرے پر بازو موڑ لیا۔ ایک آنکھ کھول کر دیکھا۔ بھیا اسی طرح دیوار کی طرف منہ کیے چپ چاپ پڑے تھے۔ پھر اچانک نومی نے مجھے جھنجھوڑا۔

’’آپا۔۔۔ اےآپا۔‘‘

میں اسی طرح خراٹے لیتی رہی۔ وہ چھلاوے کی طرح اٹھی اور بھیا کی مسہری پر۔ بھیا اٹھے، چشمہ لگایا اور اب نومی ان کے گلے میں بانہیں ڈال چکی تھی،’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘وہ بھیا کے گریبان سے بولی۔ اس کے گھونگھرالے بالوں پر بھیا کا ہاتھ آہستہ سےلرزا۔ میں اتنی دور سے بھی ان کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کر رہی تھی۔ پھر بھیا نے مجھے پکارا۔ میں سوتی بنی رہی۔

’’نومی جی جی!۔۔۔ اٹھ کر بیٹھو۔۔۔ مجھ سے باتیں کرو۔‘‘ وہ تھوڑی دیر مچلتی رہی۔ پھر ان کی گود میں پھیل گئی۔بھیا نے اسے بستر پر رکھ دیا۔ لیمپ کا شیڈ گھمایا۔

’’نومی جی جی!‘‘اس نے آنکھیں کھول دیں۔۔۔ جیسے کہہ رہی ہو جی!اور میں حیرتوں میں ڈوب گئی۔ وہ آنسوؤں سے تربتر تھیں۔

’’تمہارے ڈیڈی مجھ سے چند سال بڑے ہیں لیکن تمہاری ممی مجھ سے کئی سال چھوٹی ہیں۔‘‘

اس نے آنکھیں بند کرلیں جیسے کہہ رہے ہوں شٹ اپ!

’’تم نومی ہو جس نےکلکتہ کے ایک مشہور کانونٹ سے کیمبرج پاس کیا ہے۔ جو اپنے میگزین میں کہانیاں لکھتی ہے۔ جوراک اینڈرول جانتی ہے۔ لیکن میں اس نومی کو نہیں جانتا۔ میں تو ایک ہی نومی کو جانتاہوں، جو میری بہت پیاری بہت ہی پیاری آنٹی کی سب سے بڑی اور سب سے دلاری بیٹی ہے۔ یہ جو جی جی لیٹی ہے یہ بھی مجھے تمہاری طرح عزیز ہے اور یہ بالکل سو رہی ہے۔ تم باتیں کرو۔‘‘

’’کچھ بولو۔۔۔ نومی بیٹی۔‘‘

وہ آندھی کی طرح اٹھی اور دھم سے تخت پر گر پڑی۔

’’نومی تم بھیا سے رخصت نہیں ہوئیں۔‘‘آنٹی کی دور سے چل کر آتی ہوئی آواز کوند گئی۔ وہ ایک طرف سے شعلے کی طرح لپکتی آئی،’’آپ کو آپ کی بہت پیاری، بہت ہی پیاری آنٹی نے تو رخصت کردیا۔‘‘

وہ اس ایک جملے کی گولی داغ کر مڑگئی کہ اگر کھڑی رہتی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی اور پھر جیپ پر اس طرح سوار ہوئی جیسے جیکی گھوڑے چڑھتے ہیں۔ گرد کاایک بادل اڑاکر جیپ چلی گئی۔ بھیا اسی طرح کھڑے رہے رنجور خاموش اور کھوئے ہوئے۔ میں اس بادل کے متعلق سوچتی رہی جو بھابی کی بھری پری زندگی پر منڈلا گیا تھا اور جسے بھیا نے سگریٹ کے دھوئیں کی طرح اڑا دیا تھا اور جس کا علم تک بھابی کو نہ تھا۔ میں راز کےاس بوجھ کے نیچے کانپ سی گئی اور پھر میں بھیا کے متعلق سوچنے لگی کہ وہ کس کے لیے کیا سوچ رہے ہوں گے۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گولی
  • جنس اور شادی کی نفسیات
  • یوں بھی چھپتا ہے بھلا، وجد میں آیا ہُوا رنگ؟
  • لوگ کہتے ہیں کہ بیکار محبت کی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
قاضی عبد الستار

اگلی پوسٹ
نیا قانون
پچھلی پوسٹ
دیوالی

متعلقہ پوسٹس

گنڈاسا

مئی 15, 2017

گندم

مئی 25, 2024

زندہ رہنے کو بھی لازم ہے

دسمبر 20, 2022

جنوں کو رخت کیا خاک کو لبادہ کیا

مئی 23, 2020

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

اپریل 27, 2020

کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا

اکتوبر 10, 2025

داستانِ عشق میری کچھ نہیں ہے دوستو

اپریل 30, 2020

تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!!

مئی 5, 2020

‘یار’ اونچان ہوا جاتا ہے

جون 26, 2025

زندگی۔۔۔ایک آزمائش

ستمبر 25, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میرے آجر مجھکو مت روکو

مئی 18, 2020

گوارہ نہیں آج کل کی جدائی

نومبر 8, 2025

جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا...

جنوری 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں