124
سرکار محی الدین جی دل کانپے ہر ہر گام
ہم بے ادبے ناپاک ہیں اور پاک تمہارا نام
بغداد کے مالک صاحبا ! بغداد رہے آباد
ہم بدو ہیں بدکار ہیں سن درد بھری فریاد
جھولی میں سو سو چھید ہیں اور دل میں وہم بڑے
ہمیں حاضر شو کا اذن ہو ہم آپ کے پاؤں پڑے
دل دار بھلے دل دار جی اک بھیک نظر کی ڈال
ہم دل والے مجبور ہیں بے سُر ہیں اور بے تال
تم جاہ و جلال و جمال ہو تم قادر اور قدیر
تم صوت کا پورا حکم ہو اور اسم کی ہو تصویر
تم بخشش کا فرمان ہو اور فقر کے ہو سلطان
تم جیون بخشو دین کو عشاق کا ہو ایمان
تم شعر کا مست خیال ہو تم نظم کا روپ سروپ
تم صحرا کی ہو چاندنی تم جنگل کی ہو دھوپ
ندیم بھابھہ
