خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےابابیل
اردو افسانےاردو تحاریرخواجہ احمد عباس

ابابیل

ایک اردو افسانہ از خواجہ احمد عباس

از سائیٹ ایڈمن جنوری 22, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 22, 2020 0 تبصرے 680 مناظر
681

ابابیل

اس کا نام تو رحیم خان تھا مگر اس جیسا ظالم بھی شاید ہی کوئی ہو۔ گاؤں بھر اس کے نام سے کانپتا تھا۔ نہ آدمی پر ترس کھائے نہ جانور پر۔ ایک دن راہو کہار کے بچے نے اس کے بیل کی دم میں کانٹے باندھ دیے تو مارتے مارتے اس کو ادھ مُوا کر دیا۔ اگلے دن ذیلدار کی گھوڑی اس کے کھیت میں گھس آئی۔ لاٹھی لے کر اتنا مارا کہ لہولہان کر دیا۔ لوگ کہتے تھے کہ کم بخت کو خدا کا خوف بھی تو نہیں ہے، معصوم بچوں اور بے زبان جانوروں تک کو معاف نہیں کرتا۔ یہ ضرور جہنم میں جلے گا۔ مگر یہ سب اس کی پیٹھ کے پیچھے کہا جاتا، سامنے زبان ہلانے کی ہمت کوئی نہیں کرتا تھا۔

ایک دن بندو کی جو شامت آئی تو کہہ دیا ’’اے بھئی رحیم خان! تو کیوں بچوں کو مارتا ہے؟‘‘

رحیم نے بس اس غریب کی وہ درگت بنائی کہ اس دن سے لوگوں نے اس سے بات کرنی بھی چھوڑ دی کہ معلوم نہیں، کس بات پر بگڑ پڑے۔ بعض کا خیال تھا کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، اسے پاگل خانے بھیجنا چاہیے۔ کوئی کہتا تھا، اب کے کسی کو مارے تو تھانے میں رپٹ لکھوا دو۔ مگر کس کی مجال تھی کہ اس کے خلاف گواہی دے کر اس سے دشمنی مول لیتا۔

گاؤں بھر نے اس سے بات کرنی چھوڑ دی مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ صبح سویرے وہ ہل کندھے پر دھرے اپنے کھیت کی طرف جاتا دکھائی دیتا۔ راستے میں کسی سے نہ بولتا، کھیت میں جا کر بیلوں سے آدمیوں کی طرح باتیں کرتا۔ اس نے دونوں کے نام رکھے ہوئے تھے۔ ایک کو کہتا نتھو، دوسرے کو چھدو۔ ہل چلاتے ہوئے بولتا جاتا۔ ’’کیوں بے نتھو! تو سیدھا نہیں چلتا؟ یہ کھیت آج تیرا باپ پورا کرے گا؟‘‘

یا ’’ابے چھدو! تیری بھی شامت آئی ہے کیا؟‘‘ اور پھر ان غریبوں کی شامت ہی آ جاتی۔ سوت کی رسی کی مار کے باعث دونوں بیلوں کی کمر پر زخم پڑ گئے تھے۔

شام کو گھر آتا تو وہاں اپنے بیوی بچوں پر غصہ اتارتا۔ دال یا ساگ میں نمک زیادہ ہے، تو بیوی کو ادھیڑ ڈالا۔ کوئی بچہ شرارت کر رہا ہے، اسے الٹا لٹکا کر بیلوں والی رسی سے مارتے مارتے بے ہوش کر دیا۔ غرض ہر روز ایک آفت بپا رہتی تھی۔ آس پاس کے جھونپڑوں والے روز رات کو رحیم خان کی گالیوں اور اس کی بیوی اور بچوں کی مار کھانے اور رونے کی آواز سنتے مگر بے چارے کیا کر سکتے تھے۔ اگر کوئی منع کرنے جائے تو وہ بھی مار کھائے۔

مار کھاتے کھاتے بیوی غریب تو ادھ موئی ہو گئی تھی۔ چالیس برس کی عمر میں ساٹھ کی معلوم ہوتی تھی۔ بچے جب چھوٹے چھوٹے تھے تو پٹتے رہے۔ بڑا جب بارہ برس کا ہوا، تو ایک دن مار کھا کر جو بھاگا تو واپس نہ لوٹا۔ قریب کے گاؤں میں رشتے کا ایک چچا رہتا تھا، اس نے اپنے پاس رکھ لیا۔

بیوی نے ایک دن ڈرتے ڈرتے کہا ’’بلاس پور کی طرف جاؤ‘ تو ذرا انور کو لیتے آنا۔‘‘

بس پھر کیا تھا‘ آگ بگولا ہو گیا۔ بولا ’’میں اس بدمعاش کو لینے جاؤں؟ اب وہ خود بھی آیا تو ٹانگیں چیر کر پھینک دوں گا۔‘‘

ظاہر ہے وہ بدمعاش کیوں موت کے منہ میں واپس آنے لگا تھا؟ دو سال بعد چھوٹا لڑکا بندو بھی بھاگ گیا اور بھائی کے پاس رہنے لگا۔

رحیم خان کے پاس غصہ اتارنے کے لیے فقط بیوی رہ گئی تھی، سو وہ غریب اتنی پٹ چکی تھی کہ اب عادی ہو چلی تھی۔ مگر ایک دن اس کو اتنا مارا کہ اس سے بھی نہ رہا گیا اور موقع پا کر جب رحیم خان کھیت پر گیا ہوا تھا، وہ اپنے بھائی کو بلا کر اس کے ساتھ اپنی ماں کے ہاں چلی گئی۔ ہمسائے کی عورت سے کہہ گئی ’’آئیں تو کہہ دینا کہ میں چند روز کے لیے اپنی ماں کے پاس رام نگر جا رہی ہوں۔‘‘

شام کو رحیم خان بیلوں کو لیے واپس آیا‘ تو پڑوسن نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ اس کی بیوی اپنی ماں کے ہاں چند روز کے لیے گئی ہے۔ رحیم خان نے خلاف معمول خاموشی سے بات سنی اور بیل باندھنے چلا گیا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی بیوی اب کبھی نہیں آئے گی۔

احاطے میں بیل باندھ کر جھونپڑے کے اندر گیا تو ایک بلی میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔ کوئی اور نظر نہ آیا تو اس کی دم پکڑ کر دروازے سے باہر پھینک دیا۔ چولھا جا کر دیکھا تو ٹھنڈا پڑا ہوا تھا۔ آگ جلا کر روٹی کون ڈالتا؟ کچھ کھائے پیے بغیر ہی پڑ کر سو رہا۔

اگلے دن رحیم خان جب سو کر اٹھا تو دن چڑھ چکا تھا لیکن آج اسے کھیت پر جانے کی جلدی نہیں تھی۔ بکریوں کا دودھ دھو کر پیا اور حقہ بھر کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔ اب جھونپڑے میں دھوپ بھر آئی تھی۔ ایک کونے میں دیکھا تو جالے لگے ہوئے تھے۔ سوچا کہ لاؤ صفائی ہی کر ڈالوں۔ ایک بانس میں کپڑا باندھ کر جالے اتار رہا تھا کہ کھپریل میں ابابیلوں کا ایک گھونسلا نظر آیا۔ دو ابابیلیں کبھی اندر جاتی، کبھی باہر آتی تھیں۔

پہلے اس نے ارادہ کیا کہ بانس سے گھونسلا توڑ ڈالے، پھر معلوم نہیں کیا سوچا، ایک گھڑونچی لا کر اس پر چڑھا اور گھونسلے میں جھانک کر دیکھا۔ اندر لال بوٹی سے دو بچے پڑے چوں چوں کر رہے تھے اور ان کے ماں باپ اپنی اولاد کی حفاظت کے لیے اس کے سر پر منڈلا رہے تھے۔ گھونسلے کی طرف اس نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ مادہ ابابیل چونچ سے اس پر حملہ آور ہوئی۔

’’اری، آنکھ پھوڑے گی۔‘‘ اس نے خوفناک قہقہہ لگایا اور گھڑونچی سے اتر آیا۔ ابابیلوں کا گھونسلا سلامت رہا۔

اگلے دن سے وہ پھر کھیت جانے لگا۔ گاؤں والوں میں سے اب کوئی اس سے بات نہ کرتا۔ وہ دن بھر ہل چلاتا، پانی دیتا یا کھیتی کاٹتا لیکن شام کو سورج چھپنے سے کچھ پہلے ہی گھر آ جاتا۔ حقہ بھر کر پلنگ کے پاس لیٹ کر ابابیلوں کے گھونسلے کی طرف دیکھتا رہتا۔ اب دونوں بچے بھی اڑنے کے قابل ہو گئے تھے۔ اس نے ان دونوں کے نام اپنے بچوں کے نام پر نورو اور بندو رکھ دیے تھے۔ اب دنیا میں اس کے دوست یہ چار ابابیل ہی رہ گئے تھے لیکن لوگوں کو یہ حیرت ضرور تھی کہ مدت سے کبھی کسی نے اسے اپنے بیلوں کو مارتے نہیں دیکھا تھا۔ نتھو اور چھدو بھی خوش تھے۔ ان کی کمروں سے زخموں کے نشان بھی تقریباً غائب ہو گئے تھے۔

رحیم خاں ایک دن کھیت سے ذرا سویرے چلا آ رہا تھا کہ چند بچے سڑک پر کبڈی کھیلتے ہوئے ملے۔ اسے دیکھنا تھا کہ سب اپنے جوتے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ کہتا ہی رہا ’’ارے میں کوئی مارتا تھوڑا ہی ہوں۔‘‘

آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ وہ جلدی جلدی بیلوں کو ہنکاتا ہوا گھر لایا۔ ابھی انہیں باندھا ہی تھا کہ بادل زور سے گرجا اور بارش شروع ہو گئی۔

اندر آ کر کواڑ بند کیے، چراغ جلا کر اجالا کیا اور حسب معمول باسی روٹی کے ٹکڑے کر کے ابابیلوں کے گھونسلے کے قریب ایک طاق میں ڈال دیے۔

’’ارے بندو! ارے بندو!‘‘ اس نے پکار کر کہا مگر وہ نہ نکلے۔ گھونسلے میں جو جھانکا تو چاروں اپنے پروں میں سر دیے بیٹھے تھے۔ عین جس جگہ چھت میں گھونسلا تھا، وہاں ایک سوراخ تھا اور بارش کا پانی ٹپک رہا تھا، اگر کچھ دیر یہ پانی اسی طرح آتا رہا، تو گھونسلا تباہ ہو جائے گا اور ابابیلیں بے چاری بے گھر ہو جائیں گی۔ یہ سوچ کر اس نے کواڑ کھولے اور موسلا دھار بارش میں سیڑھی لگا کر چھت پر چڑھ گیا۔

جب تک مٹی ڈال کر سوراخ بند کر کے وہ اترا، پانی میں شرابور ہو چکا تھا۔ پلنگ پر جا کر بیٹھا تو کئی چھینکیں آئیں مگر اس نے پروا نہ کی اور گیلے کپڑے نچوڑ چادر اوڑھ کر سو گیا۔ اگلے دن صبح اٹھا تو تمام بدن میں درد اور سخت بخار تھا۔ کون حال پوچھتا اور کون دوا لاتا؟ دو دن اسی حالت میں پڑا رہا۔

جب دو دن اسے کھیت پر جاتے ہوئے نہ دیکھا تو گاؤں والوں کو تشویش ہوئی۔ کالو ذیلدار اور کئی کسان شام کو اسے جھونپڑے میں دیکھنے آئے۔ جھانک کر دیکھا تو وہ پلنگ پر پڑا آپ ہی آپ باتیں کر رہا تھا۔ ’’ارے بندو! ارے نورو! کہاں مر گئے؟ آج کون کھانا دے گا۔‘‘

انہوں نے دیکھا کہ چند ابابیلیں کمرے میں پھڑپھڑا رہی تھیں۔

’’بے چارہ پاگل ہو گیا ہے۔‘‘ کالو ذیل دار نے سر ہلا کر کہا۔ ’’صبح شفا خانے والوں کو پتہ دیں گے کہ پاگل خانے بھجوا دیں۔‘‘

اگلے دن صبح جب اس کے پڑوسی شفا خانے والوں کو لے کر آئے اور اس کے جھونپڑے کا دروازہ کھولا تو وہ مر چکا تھا۔ اس کے پائنتی پر چار ابابیلیں سر جھکائے خاموش بیٹھی تھیں۔

٭٭٭

خواجہ احمد عباس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شو پیس
  • محمودہ
  • صنوبر کے نایاب جنگلات
  • اصل وراثت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آشیانہ
پچھلی پوسٹ
کھدر کا کفن

متعلقہ پوسٹس

خدا کے سامنے ہمیشہ منکسر رہیں!

نومبر 26, 2025

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں

اپریل 21, 2017

سعادت حسن منٹو

مئی 11, 2020

دوسرا بوسہ

مئی 14, 2024

سوشل میڈیا، وقت، شعور اور حقیقت کی حفاظت

مارچ 9, 2026

اُردو کی مخالفت: قومی یکجہتی پر حملہ

ستمبر 21, 2025

چھپکلی بے دیوار

دسمبر 17, 2019

بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات

جنوری 13, 2020

اصطلاح اور اصطلاحاتِ صوفیا کا تلمیحی جائزہ

اپریل 28, 2023

مختار مسعود کی تحریریں

ستمبر 22, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رحمن کے جوتے

اپریل 6, 2020

مردہ آدمی کی تصویر

جون 9, 2020

23 مارچ : قراردادِ پاکستان سے...

مارچ 23, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں