خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےآمنہ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

آمنہ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2019 0 تبصرے 658 مناظر
659

آمنہ

دُور تک دھان کے سنہرے کھیت پھیلے ہوئے تھے‘ جُمے کا نوجوان لڑکا بُندو کٹے ہوئے دھان کے پُولے اُٹھا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گا بھی رہا تھا۔ دھان کے پُولے دھر دھر کاندھے بھر بھر لائے کھیت سنہرا‘ دھن دولت رے بندو کا باپ جُما گاؤں میں بہت مقبول تھا۔ ہر شخص کو معلوم تھا کہ اس کو اپنی بیوی سے بہت پیار ہے‘ ان دونوں کا عشق گاؤں کے ہر شخص کو معلوم تھا‘ ان کے دو بچے تھے‘ ایک بندو‘ جس کی عمر تیرہ برس کے قریب تھی ‘ دوسرا چندو۔ سب خوش و خرم تھے مگر ایک روز اچانک جُمّے کی بیوی بیمار پڑ گئی‘ حالت بہت نازک ہو گئی‘ بہت علاج کیے‘ ٹونے ٹوٹکے آزمائے مگر اس کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ جب مرض مہلک شکل اختیار کر گیا تو اس نے اپنے شوہر سے نحیف لہجے میں کہا

’’تم مجھے کبوتری کہا کرتے تھے اور خود کو کبوتر۔ ہم دونوں نے دو بچے پیدا کیے۔ اب یہ تمہاری کبوتری مر رہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم کوئی اور کبوتری اپنے گھر لے آؤ‘‘

تھوڑی دیر کے بعد اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی‘ جمّے کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اس کی بیوی بولے چلی جا رہی تھی۔

’’تم اور کبوتری لے آؤ گے۔ وہ سوچے گی کہ جب تک میرے بچے زندہ ہیں تم اس سے محبت نہیں کرو گے۔ چنانچہ وہ ان کو ذبح کر کے کھا جائے گی‘‘

جمّے نے اپنی بیوی سے بڑے پیار کے ساتھ کہا

’’سکینہ! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر دوسری شادی نہیں کروں گا‘ مگر تمہارے دشمن مریں تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گی‘‘

سکینہ کے ہونٹوں پر مُردہ سی مسکراہٹ نمودار ہوئی‘ اس کے فوراً بعد اس کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ جُمّا بہت رویا۔ جب اُس نے اپنے ہاتھوں سے اس کو دفن کیا تو اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اُس نے اپنی زندگی منوں مٹی کے نیچے گاڑ دی ہے۔ اب وہ ہر وقت مغموم رہتا‘ کام کاج میں اسے کوئی دلچسپی نہ رہی‘ ایک دن اس کے ایک وفادار مزارعہ نے اُس سے کہا۔

’’سرکار! بہت دنوں سے میں آپ کی یہ حالت دیکھ رہا ہوں اور جی ہی جی میں کڑھتا رہا ہوں۔ آج مجھ سے نہیں رہا گیا تو آپ سے یہ عرض کرنے آیا ہوں کہ آپ اپنے بچوں کا بہت خیال رکھتے ہیں‘ اپنی زمینوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ آپ کو اس کا علم بھی نہیں‘ کتنا نقصان ہو رہا ہے‘‘

جمّے نے بڑی بے توجہی سے کہا :

’’ہونے دو۔ مجھے کسی چیز کا ہوش نہیں‘‘

’’سرکار۔ آپ ہوش میں آئیے۔ چاروں طرف دشمن ہی دشمن ہیں‘ ایسا نہ ہو وہ آپ کی غفلت سے فائدہ اُٹھا کر آپ کی زمینوں پر قبضہ کر لیں‘ آپ سے مقدمہ بازی کیا ہو گی۔ میری تو یہی مخلصانہ رائے ہے کہ آپ دوسری شادی کر لیں۔ اس سے آپ کے غم کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور وہ آپ کے لڑکوں سے پیار محبت بھی کرے گی۔ جمّے کو بہت غصہ آیا

’’بکواس نہ کرو رمضانی ‘ تم سمجھتے نہیں کہ سوتیلی ماں کیا ہوتی ہے‘ اس کے علاوہ تم یہ بھی تو سوچو ‘ میری بیوی کی روح کو کتنا بڑا صدمہ پہنچے گا‘‘

بہت دنوں کے اصرار کے بعد آخر رمضانی اپنے آقا کو دوسری شادی پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب شادی ہو گئی تو اس نے اپنے لڑکوں کو ایک علیحدہ مکان میں بھیج دیا۔ ہر روز وہاں کئی کئی گھنٹے رہتا اور بندو اور چندو کی دلجوئی کرتا رہتا۔ نئی بیوی کو یہ بات بہت ناگوار گزری ‘ ایک بات اور بھی تھی کہ مکھن دودھ کا بیشتر حصہ ا س کے سوتیلے بیٹوں کے پاس چلا جاتا تھا۔ اس سے وہ بہت جلتی ‘ اس کا تو یہ مطلب تھا کہ گھر بار کے مالک وہی ہیں۔ ایک دن جمّا جب کھیتوں سے واپس آیا تو اس کی نئی بیوی زاروقطار رونے لگی‘ جمّے نے اس آہ و زاری کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا

’’تم مجھے اپنا نہیں سمجھتے۔ اسی لیے بچوں کو دوسرے مکان میں بھیج دیا۔ میں ان کی ماں ہوں‘ کوئی دشمن تو نہیں ہوں مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب میں سوچتی ہوں کہ بیچارے اکیلے رہتے ہیں‘‘

جُمّا ان باتوں سے بہت متاثر ہوا اور دوسرے ہی دن بُندو اور چندو کو لے آیا اور ان کو سوتیلی ماں کے حوالے کر دیا جس نے ان کو اتنے پیار محبت سے رکھا کہ آس پاس کے تمام لوگ اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئے۔ نئی بیوی نے جب اپنے خاوند کے دل کو پوری طرح موہ لیا تو ایک دن ایک مزارعہ کو بلا کر اکیلے میں اس سے بڑے رازدارانہ لہجے میں کہا

’’میں تم سے ایک کام لینا چاہتی ہوں۔ بولو کرو گے‘‘

اس مزارعہ نے جس کا نام شبراتی تھا‘ ہاتھ جوڑ کر کہا :

’’سرکار! آپ مائی باپ ہیں۔ جان تک حاضر ہے‘‘

نئی بیوی نے کہا

’’دیکھو ‘ کل دریا کے پاس بہت بڑا میلہ لگ رہا ہے۔ میں اپنے سوتیلے بچوں کو تمہارے ساتھ بھیجوں گی‘ ان کو کشتی کی سیر کرانا اور کسی نہ کسی طرح جب کوئی اور دیکھتا نہ ہو انھیں گہرے پانی میں ڈبو دینا‘‘

شبراتی کی ذہنیت غلامانہ تھی‘ اس کے علاوہ اس کو بہت بڑے انعام کا لالچ دیا گیا تھا۔ وہ دوسرے روز بندو اور چندو کو اپنے ساتھ لے گیا۔ انھیں کشتی میں بٹھایا ‘’اس کو خود کھینا شروع کیا‘ دریا میں دور تک چلا گیا‘ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔ اس نے چاہا کہ انھیں دھکا دے کر ڈبو دے مگر ایک دم اس کا ضمیر جاگ اُٹھا‘ اس نے سوچا ان بچوں کا کیا قصور ہے۔ سوائے اس کے کہ ان کی اپنی ماں مر چکی ہے اور اب یہ سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ میں انھیں کسی شخص کے حوالے کر دوں اور سوتیلی ماں سے جا کر کہہ دوں کہ دونوں ڈُوب چکے ہیں۔ دریا کے دوسرے کنارے اُتر کر اُس نے بندو اور چندو کو ایک تاجر کے حوالے کر دیا۔ جس نے ان کو ملازم رکھ لیا۔ بڑا لڑکا بندو کھیل کود کا عادی‘ محنت مشقت سے بہت گھبراتا تھا۔ تاجر کے ہاں سے بھاگ نکلا اور پیدل چل کر دوسرے شہر میں پہنچا مگر وہاں اسے ایک دولت مند آدمی کے ہاں جس کا نام قلندر بیگ تھا‘ پناہ لینا پڑی۔ قلندر بیگ نیک دل آدمی تھا‘ اس نے چاہا کہ بندو کو اپنے ہاں نوکر رکھ لے‘ چنانچہ اُس نے اُس سے پوچھا :

’’برخوردار! کیا تنخواہ لو گے‘‘

بندو نے جواب دیا :

’’جناب میں تنخواہ نہیں لوں گا‘‘

قلندر بیگ کو کسی قدر حیرت ہوئی‘ لڑکا شکل و صورت کا اچھا تھا‘ اس میں گنوار پن بھی نہیں تھا‘ اُس نے پُوچھا

’’تم کس خاندان کے ہو۔ کس شہر کے باشندے ہو؟‘‘

بندو نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموش رہا ‘ پھر رونے لگا۔ قلندر بیگ نے اس سے مزید استفسار کرنا مناسب نہ سمجھا ‘ جب بندو کو اس کے یہاں رہتے ہوئے کافی عرصہ گزر گیا تو قلندر بیگ اس کی خوش اطواری سے بہت متاثر ہوا۔ ایک دن اُس نے اپنی بیوی سے کہا بندو مجھے بہت پسند ہے۔ میں تو سوچتا ہوں اس سے اپنی ایک لڑکی بیاہ دُوں۔ ‘‘

بیوی کو اپنے خاوند کی یہ بات بُری لگی لیکن آخر اس نے کہا :

’’آپ سے اس کے خاندان کے متعلق تو دریافت کیجیے‘‘

قلندر بیگ نے کہا

’’میں نے ایک مرتبہ اس سے اس کے خاندان کے متعلق پوچھا تو وہ زاروقطار رونے لگا۔

’’پھر میں نے اس موضوع پر اس سے کبھی گفتگو نہیں کی‘‘

بندو کئی برس قلندر بیگ کے ہاں رہا‘ جب بیس برس کا ہو گیا تو قلندر بیگ نے اپنا سارا کاروبار اس کے سپرد کر دیا۔ کافی عرصہ گزر گیا‘ ایک دن بندو نے بڑے ادب سے اپنے آقا سے درخواست کی

’’دریا کے اُس پار دُور جو ایک گاؤں ہے وہاں میں چھوٹا مکان بنوانا چاہتا ہوں۔ کیا مجھے آپ اتنا روپیہ مرحمت فرما سکتے ہیں کہ میری یہ خواہش پوری ہو جائے‘‘

قلندر مسکرایا

’’تم جتنا روپیہ چاہو لے سکتے ہو بیٹا۔ لیکن یہ بتاؤ کہ تم دریا پار اتنی دُور مکان کیوں بنوانا چاہتے ہو۔ بندو نے جواب دیا

’’یہ راز آپ پر عنقریب کھل جائے گا‘‘

بندو اور چندو کا باپ اپنے بیٹوں کے فراق میں گُھل گُھل کے مر چکا تھا‘ مزارعوں کی بڑی ابتر حالت تھی اس لیے کہ زمینوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ بندو‘ بہت سا روپیہ لے کر اپنے گاؤں پہنچا ‘ ایک پکّا مکان بنوایا اور مزارعوں کو خوشحال کر دیا۔ بندو کا بھائی چندو جس شخص کے ہاں ملازم ہوا تھا اس نے اُس کو بیٹا بنا لیا تھا‘ ایک دفعہ وہ خطرناک طور پر بیمار پڑ گیا تو اس شخص کی بیوی نے جس کا نام صمد خان تھا‘ اپنی بیٹی آمنہ سے کہا کہ وہ اس کی تیمار داری کرے۔ آمنہ بڑی نازک اندام حسین لڑکی تھی‘ دن رات اُس نے چندو کی خدمت کی‘ آخر وہ صحت مند ہو گیا‘ تیمار داری کے اس دور میں وہ کچھ اس طرح گھل مل گئے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی۔ مگر چندو سوچتا تھا کہ آمنہ ایک دولت مند کی لڑکی ہے اور ہ محض کنگلا۔ ان کا آپس میں کیا جوڑ ہے‘ اس کے والد بھلا کب ان کی شادی پر راضی ہوں گے لیکن آمنہ کو کسی قدر یقین تھا کہ اس کے والدین راضی ہو جائیں گے ‘ اس لیے کہ وہ چندو کو بڑی اچھی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ ایک دن چندو گائے بھینسوں کے ریوڑ کو جوہڑ پر پانی پلا رہا تھا کہ آمنہ دوڑتی ہوئی آئی اُس کی سانس پھولی ہوئی تھی‘ ننھا سا سینہ دھڑک رہا تھا اُس نے خوش خوش چندو سے کہا

’’ایک اچھی خبر لائی ہوں‘ آج میری ماں اور باپ میری شادی کی بات کر رہے تھے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ تم بڑے اچھے لڑکے ہو‘ اس لیے تمھیں میرے ساتھ بیاہ دینا چاہیے‘‘

چندو اس قدر خوش ہوا کہ اس نے آمنہ کو اُٹھا کر ناچنا شروع کر دیا۔ُان دونوں کی شادی ہو گئی‘ ایک سال کے بعد ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام جمیل رکھا گیا۔ جب بندو اپنے گاؤں میں اچھی طرح جم گیا تو اس نے بھائی کا پتہ لیا۔ جا کے اُس سے ملا‘ دونوں بہت خوش ہوئے۔ بندو نے اس سے کہا اب اﷲ کا فضل ہے چلو میرے ساتھ اور دیوانی سنبھالو‘ میں چاہتا ہوں تمہاری شادی اپنی سالی سے کرا دوں۔ بڑی پیاری لڑکی ہے‘‘

چندو نے اس کو بتایا کہ وہ پہلے ہی شادی شدہ ہے‘ سارے حالات سُن کر بندو نے اس کو سمجھایا۔ قلندر بیگ بیحد دولتمند آدمی ہے‘ اس کی لڑکی سے شادی کر لو۔ ساری عمر عیش کرو گے۔ آمنہ کے باپ کے پاس کیا پڑا ہے‘‘

چندو اپنے بھائی کی یہ باتیں سُن کر لالچ میں آ گیا‘ اور دولت مند آمنہ کو چھوڑ دیا۔ طلاق نامہ کسی کے ہاتھ بھجوا دیا اور اس سے ملے بغیر چلا گیا۔ چند روز کے بعد ہی بندو نے اپنے بھائی کی شادی قلندر بیگ کی چھوٹی لڑکی سے کرا دی‘ آمنہ حیران و پریشان تھی کہ اس کا پیارا چندو ایک دم کہاں غائب ہو گیا لیکن اُس کو یقین تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتاہے۔ ایک دن ضرور واپس آ جائے گا۔ بڑی دیر اُس نے اُس کی واپسی کا انتظار کیا اور اس کی یاد میں آنسو بہاتی رہی۔ جب وہ نہ آیا تو آمنہ کے باپ نے جمیل کو ساتھ لیا اور بندو کے گاؤں پہنچا‘ اس کی ملاقات چندو سے ہوئی۔ وہ دولت کے نشے میں سب کو بھول چکا تھا۔ آمنہ کے باپ نے اُس کی بڑی منت سماجت کی اور اس سے کہا

’’اور کچھ نہیں تو اپنے اس کمسن بیٹے کا خیال کرو‘ تمہارے بغیر اس بچے کی زندگی کیا ہے؟‘‘

چندو نے یہ کورا جواب دیا

’’میں اپنی دولت اور عزت اس بچے کے لیے چھوڑ سکتا ہوں؟۔ جاؤ اسے لے جاؤ اور میری نظروں سے دُور کر دو‘‘

جب آمنہ کے باپ نے اور زیادہ منت سماجت کی تو چندو نے اس بڈّھے کو دھکّے دے کر باہر نکلوا دیا۔ ساتھ ہی اپنے بچے کو بھی۔ بوڑھا باپ غم و اندوہ سے چور گھر پہنچا اور آمنہ کو ساری داستان سُنا دی۔ آمنہ کو اس قدر صدمہ پہنچا کہ پاگل ہو گئی۔ چندو پر پے در پے اتنے مصائب آئے کہ اس کی ساری دولت اجڑ گئی‘ بھائی نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ بیوی لڑ جھگڑ کر اپنے میکے چلی گئی‘ اب اُس کو آمنہ یاد آئی‘ وہ اُس سے ملنے کے لیے گیا‘ اس کا بیٹا جمیل‘ ہڈیوں کا ڈھانچہ‘ اُس سے گھر کے باہر ملا‘ اُس نے اُس کو پیار کیا اور آمنہ کے متعلق اس سے پوچھا۔ جمیل نے اُس سے کہا

’’آؤ تمھیں بتاتا ہوں‘ میری ماں آج کل کہاں رہتی ہے‘‘

وہ اُسے دُور لے گیا اور ایک قبر کی طرف اشارہ کر کے

’’یہاں رہتی ہے آمنہ امّاں‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خیبر پختونخوا امن جرگہ کا اعلامیہ
  • کرفیو آرڈر
  • دورِ حاضر اور ایمانِ مسلم
  • پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اردو شعرا کے حوالےسے چند معلومات
پچھلی پوسٹ
آم

متعلقہ پوسٹس

خنک شہرِ ایران

جنوری 25, 2020

گاڈ سیو دا کنگ

مارچ 24, 2026

مندر والی گلی

جون 14, 2020

شہر کی سیر

جولائی 31, 2022

آم

نومبر 5, 2019

رب نہیں روٹھتا!

اکتوبر 9, 2022

غریب اور عید

اپریل 26, 2023

عورت اور ماں

مئی 21, 2020

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

حدیث کی اقسام

جنوری 22, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لمس

جنوری 12, 2026

تعارف کا دوسرا قدم

دسمبر 16, 2025

مٹی کی مونا لیزا

جنوری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں