خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباترقی کی دوڑ میں بکھرتے رشتے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ترقی کی دوڑ میں بکھرتے رشتے

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 22, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 22, 2025 0 تبصرے 108 مناظر
109

زمانہ بدل رہا ہے، اور ہر نیا دن انسان کو ایک ایسی تیز رفتار دنیا میں دھکیل رہا ہے جہاں دوڑ جیتنے کے لیے سب کچھ قربان کر دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کے نعروں اور سہولتوں کے انبار نے انسان کو سہولت تو دی ہے مگر دل کی دنیا کو اجاڑ دیا ہے۔ ہم فاصلوں کو کم کرنے کے دعوے کرتے ہیں مگر رشتوں کے درمیان ایسی دیواریں کھڑی کر چکے ہیں جنہیں توڑنا آسان نہیں۔ یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ جتنی تیزی سے سائنس نے فاصلے گھٹائے ہیں، اتنی ہی تیزی سے دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

گھر کبھی سکون اور محبت کی علامت ہوتے تھے۔ بچے اسکول سے واپس آکر والدین کے ساتھ بیٹھتے، ان کی باتیں سنتے اور ان کے تجربے سے سبق حاصل کرتے۔ آج منظر مختلف ہے۔ بچے اپنے کمرے میں بند اسکرینوں کے اسیر ہیں۔ وہ دل کی باتیں اجنبیوں کو بتاتے ہیں، مگر اپنے والدین کے سامنے خاموش ہو جاتے ہیں۔ ماں باپ کی موجودگی کے باوجود ایک عجیب سا خلا محسوس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے گھر کی دیواریں تو باقی ہیں مگر اس کے اندر کی روح کہیں کھو گئی ہے۔

نوجوانی کو ہمیشہ خاندان کا سہارا سمجھا گیا ہے۔ مگر آج کا نوجوان اپنے ہی دائرے میں محصور ہے۔ والدین کی خیریت پوچھنے کا وقت نہیں، رشتوں کی نزاکت سمجھنے کا حوصلہ نہیں۔ یہ لاپرواہی وقت کے ساتھ ایک گہری خلیج میں بدل جاتی ہے۔ پھر نصیحتیں بھی بوجھ لگتی ہیں اور محبت کے رشتے بھی غیر اہم۔ یہی وہ لمحہ ہے جب خاندان کے اندر سے اعتماد ٹوٹتا ہے اور تعلقات رسمی رہ جاتے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ ہے جو بوڑھے والدین کے حصے میں آتا ہے۔ وہ والدین جنہوں نے اپنی خوشیاں اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیں، بڑھاپے میں تنہائی اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ کرسی پر بیٹھے دن گنتے رہتے ہیں کہ کب کوئی بیٹا یا بیٹی ان کے پاس آکر بات کرے۔ ہمارا معاشرہ ان کے تجربے کو بوجھ سمجھ کر کنارے لگا دیتا ہے حالانکہ یہی تجربہ آئندہ نسلوں کی رہنمائی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جو قوم اپنے بزرگوں کو فراموش کر دیتی ہے وہ تاریخ میں اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔

اس سب کے ساتھ عورت کا معاملہ بھی کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ ہم تعلیم اور شعور کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں مگر عورت کو آج بھی کمزور اور بے وقعت سمجھتے ہیں۔ کہیں اسے گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے تو کہیں آزادی کے نام پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کو مقام دینا صرف اس کا حق ہی نہیں بلکہ خاندان کے استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ عورت اگر عزت اور اعتماد پائے تو وہی رشتوں کو جوڑنے والی سب سے مضبوط کڑی بن جاتی ہے۔ وہ ماں کی صورت میں اولاد کو تربیت دیتی ہے اور بیٹی کے روپ میں گھر کی رونق بڑھاتی ہے۔ مگر جب عورت کو عزت سے محروم کیا جاتا ہے تو خاندان بکھرنے لگتے ہیں اور معاشرہ اپنی بنیادوں سے خالی ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ رشتوں کے بکھرنے میں صرف سوشل میڈیا یا ٹیکنالوجی قصوروار نہیں۔ معاشی دباؤ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے انسان کو اتنا تھکا دیا ہے کہ وہ اپنے ہی پیاروں کے لیے وقت نہیں نکال پاتا۔ باپ روزی کے چکر میں الجھا ہے، ماں کاموں میں تھکی ہوئی ہے، اور بچے اپنی مصنوعی دنیا میں کھوئے ہوئے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کے باوجود دل ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ یہ معاشی دباؤ خاندان کے رشتوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔

ٹیکنالوجی بذاتِ خود کوئی دشمن نہیں۔ اس نے فاصلے کم کیے، علم عام کیا اور سہولتیں فراہم کیں۔ مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اسے زندگی پر حاوی کر دیتے ہیں۔ اگر ہم ٹیکنالوجی کو ضرورت کے دائرے میں رکھیں تو یہ رشتوں کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ اصل ضرورت توازن قائم کرنے کی ہے۔ والدین اور اولاد اگر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں تو اسکرین بھی رکاوٹ نہیں بلکہ ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن جب مشین انسان پر غالب آ جائے تو انسان مشین کے قابو میں آ جاتا ہے۔

یہ سب تصویر کا منفی رخ ہے۔ لیکن اس کا حل بھی موجود ہے۔ اگر خاندان میں یہ طے کر لیا جائے کہ ہفتے میں ایک دن سب مل کر بیٹھیں گے، ایک ساتھ کھانا کھائیں گے اور بات چیت کریں گے تو محبت کا رشتہ پھر سے جڑ سکتا ہے۔ بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈال لی جائے تو ان کے تجربے کی روشنی نئی نسل کے لیے راہنما بن سکتی ہے۔ بچوں کو تعلیم کے ساتھ رشتوں کی اہمیت بھی سکھائی جائے تو وہ صرف کامیاب نہیں بلکہ بااخلاق انسان بھی بنیں گے۔ عورت کو اس کا جائز مقام دیا جائے تو خاندان بکھرنے کے بجائے مزید مضبوط ہوں گے۔ اور اگر ہم نے اپنی ترجیحات میں صرف معاشی دوڑ کے بجائے رشتوں کو بھی شامل کر لیا تو زندگی آسان ہو جائے گی۔

رشتے دو ستونوں پر قائم رہتے ہیں: اعتماد اور احترام۔ جب یہ دونوں کمزور ہو جائیں تو نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی بھی بے معنی ہو جاتی ہے اگر گھر کے اندر محبت اور سکون نہ ہو۔

یہ وقت ہے کہ ہم سوچیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اس زوال کو نہ روکا تو آنے والی نسلیں محبت، عزت اور رشتے جیسی قدریں صرف کتابوں میں پڑھیں گی۔ وہ عملی زندگی میں ان نعمتوں سے محروم رہیں گی۔ اور شاید پھر ہمیں یہ احساس بھی نہ ہو کہ ہم نے کیا کھویا اور کس قیمت پر پایا۔ سوال یہ ہے: کیا ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں رشتوں کو صرف تاریخ کے اوراق میں تلاش کریں؟ یا ہم ابھی سے عزم کر کے ان رشتوں کو بچانے کی کوشش کریں گے؟ فیصلہ آج کے انسان کے ہاتھ میں ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موازنہ انیس و دبیر
  • عذاب النار
  • گھما لیا ترا کنگن بھی اور کلائی بھی
  • ‏تم اب جو لکھنا 
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مختار مسعود کی تحریریں
پچھلی پوسٹ
پاکستان کی ترقی کا راستہ

متعلقہ پوسٹس

ہم کو جہانِ شوق کا منظر

فروری 26, 2025

خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا چاہیے

اکتوبر 12, 2025

خدا پرستی کا نسخہ

دسمبر 29, 2019

ہیں سردیاں پلٹنے کو اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

دسمبر 23, 2021

انسان کے باطن کو جگانے والا مہینہ

فروری 21, 2026

میرے بھائی کے بچے

نومبر 5, 2019

میں سوچتی ہوں کہ

ستمبر 14, 2025

کیسے ساتھ نبھاؤں گا میں ایسے میں

جنوری 28, 2020

کفن میں ایک سو ایک سال

جون 14, 2020

ٹوٹا ہوا ہے جتنا بَھلے ، لگ نہیں رہا

نومبر 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا اسیری کیا رہائی

اکتوبر 14, 2025

علمائے دیوبند کا فکری منہج

دسمبر 6, 2025

موسموں کو ہرا کرو صاحب

مارچ 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں