خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباترقی کی دوڑ میں بکھرتے رشتے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ترقی کی دوڑ میں بکھرتے رشتے

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 22, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 22, 2025 0 تبصرے 67 مناظر
68

زمانہ بدل رہا ہے، اور ہر نیا دن انسان کو ایک ایسی تیز رفتار دنیا میں دھکیل رہا ہے جہاں دوڑ جیتنے کے لیے سب کچھ قربان کر دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کے نعروں اور سہولتوں کے انبار نے انسان کو سہولت تو دی ہے مگر دل کی دنیا کو اجاڑ دیا ہے۔ ہم فاصلوں کو کم کرنے کے دعوے کرتے ہیں مگر رشتوں کے درمیان ایسی دیواریں کھڑی کر چکے ہیں جنہیں توڑنا آسان نہیں۔ یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ جتنی تیزی سے سائنس نے فاصلے گھٹائے ہیں، اتنی ہی تیزی سے دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

گھر کبھی سکون اور محبت کی علامت ہوتے تھے۔ بچے اسکول سے واپس آکر والدین کے ساتھ بیٹھتے، ان کی باتیں سنتے اور ان کے تجربے سے سبق حاصل کرتے۔ آج منظر مختلف ہے۔ بچے اپنے کمرے میں بند اسکرینوں کے اسیر ہیں۔ وہ دل کی باتیں اجنبیوں کو بتاتے ہیں، مگر اپنے والدین کے سامنے خاموش ہو جاتے ہیں۔ ماں باپ کی موجودگی کے باوجود ایک عجیب سا خلا محسوس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے گھر کی دیواریں تو باقی ہیں مگر اس کے اندر کی روح کہیں کھو گئی ہے۔

نوجوانی کو ہمیشہ خاندان کا سہارا سمجھا گیا ہے۔ مگر آج کا نوجوان اپنے ہی دائرے میں محصور ہے۔ والدین کی خیریت پوچھنے کا وقت نہیں، رشتوں کی نزاکت سمجھنے کا حوصلہ نہیں۔ یہ لاپرواہی وقت کے ساتھ ایک گہری خلیج میں بدل جاتی ہے۔ پھر نصیحتیں بھی بوجھ لگتی ہیں اور محبت کے رشتے بھی غیر اہم۔ یہی وہ لمحہ ہے جب خاندان کے اندر سے اعتماد ٹوٹتا ہے اور تعلقات رسمی رہ جاتے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ ہے جو بوڑھے والدین کے حصے میں آتا ہے۔ وہ والدین جنہوں نے اپنی خوشیاں اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیں، بڑھاپے میں تنہائی اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ کرسی پر بیٹھے دن گنتے رہتے ہیں کہ کب کوئی بیٹا یا بیٹی ان کے پاس آکر بات کرے۔ ہمارا معاشرہ ان کے تجربے کو بوجھ سمجھ کر کنارے لگا دیتا ہے حالانکہ یہی تجربہ آئندہ نسلوں کی رہنمائی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جو قوم اپنے بزرگوں کو فراموش کر دیتی ہے وہ تاریخ میں اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔

اس سب کے ساتھ عورت کا معاملہ بھی کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ ہم تعلیم اور شعور کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں مگر عورت کو آج بھی کمزور اور بے وقعت سمجھتے ہیں۔ کہیں اسے گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے تو کہیں آزادی کے نام پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کو مقام دینا صرف اس کا حق ہی نہیں بلکہ خاندان کے استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ عورت اگر عزت اور اعتماد پائے تو وہی رشتوں کو جوڑنے والی سب سے مضبوط کڑی بن جاتی ہے۔ وہ ماں کی صورت میں اولاد کو تربیت دیتی ہے اور بیٹی کے روپ میں گھر کی رونق بڑھاتی ہے۔ مگر جب عورت کو عزت سے محروم کیا جاتا ہے تو خاندان بکھرنے لگتے ہیں اور معاشرہ اپنی بنیادوں سے خالی ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ رشتوں کے بکھرنے میں صرف سوشل میڈیا یا ٹیکنالوجی قصوروار نہیں۔ معاشی دباؤ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے انسان کو اتنا تھکا دیا ہے کہ وہ اپنے ہی پیاروں کے لیے وقت نہیں نکال پاتا۔ باپ روزی کے چکر میں الجھا ہے، ماں کاموں میں تھکی ہوئی ہے، اور بچے اپنی مصنوعی دنیا میں کھوئے ہوئے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کے باوجود دل ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ یہ معاشی دباؤ خاندان کے رشتوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔

ٹیکنالوجی بذاتِ خود کوئی دشمن نہیں۔ اس نے فاصلے کم کیے، علم عام کیا اور سہولتیں فراہم کیں۔ مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اسے زندگی پر حاوی کر دیتے ہیں۔ اگر ہم ٹیکنالوجی کو ضرورت کے دائرے میں رکھیں تو یہ رشتوں کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ اصل ضرورت توازن قائم کرنے کی ہے۔ والدین اور اولاد اگر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں تو اسکرین بھی رکاوٹ نہیں بلکہ ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن جب مشین انسان پر غالب آ جائے تو انسان مشین کے قابو میں آ جاتا ہے۔

یہ سب تصویر کا منفی رخ ہے۔ لیکن اس کا حل بھی موجود ہے۔ اگر خاندان میں یہ طے کر لیا جائے کہ ہفتے میں ایک دن سب مل کر بیٹھیں گے، ایک ساتھ کھانا کھائیں گے اور بات چیت کریں گے تو محبت کا رشتہ پھر سے جڑ سکتا ہے۔ بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈال لی جائے تو ان کے تجربے کی روشنی نئی نسل کے لیے راہنما بن سکتی ہے۔ بچوں کو تعلیم کے ساتھ رشتوں کی اہمیت بھی سکھائی جائے تو وہ صرف کامیاب نہیں بلکہ بااخلاق انسان بھی بنیں گے۔ عورت کو اس کا جائز مقام دیا جائے تو خاندان بکھرنے کے بجائے مزید مضبوط ہوں گے۔ اور اگر ہم نے اپنی ترجیحات میں صرف معاشی دوڑ کے بجائے رشتوں کو بھی شامل کر لیا تو زندگی آسان ہو جائے گی۔

رشتے دو ستونوں پر قائم رہتے ہیں: اعتماد اور احترام۔ جب یہ دونوں کمزور ہو جائیں تو نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی بھی بے معنی ہو جاتی ہے اگر گھر کے اندر محبت اور سکون نہ ہو۔

یہ وقت ہے کہ ہم سوچیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اس زوال کو نہ روکا تو آنے والی نسلیں محبت، عزت اور رشتے جیسی قدریں صرف کتابوں میں پڑھیں گی۔ وہ عملی زندگی میں ان نعمتوں سے محروم رہیں گی۔ اور شاید پھر ہمیں یہ احساس بھی نہ ہو کہ ہم نے کیا کھویا اور کس قیمت پر پایا۔ سوال یہ ہے: کیا ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں رشتوں کو صرف تاریخ کے اوراق میں تلاش کریں؟ یا ہم ابھی سے عزم کر کے ان رشتوں کو بچانے کی کوشش کریں گے؟ فیصلہ آج کے انسان کے ہاتھ میں ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اُس کے جانے کا اِس دل کو ڈر سا تھا
  • شعر لکھے نہ قافیہ لایا
  • محمد بن سلمان
  • تین جذبے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مختار مسعود کی تحریریں
پچھلی پوسٹ
پاکستان کی ترقی کا راستہ

متعلقہ پوسٹس

رات کے پچھلے پہر

مئی 20, 2020

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

مرثیے اور قصیدے کی مشترک جہتوں کا جائزہ

جنوری 1, 2023

عباس تابش ـ ایک مطالعہ

نومبر 3, 2020

ان کہی بات

مارچ 28, 2022

حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

اگست 26, 2025

آصف نے کہا

نومبر 14, 2019

گرے مکاں میں دبی کہکشاں

نومبر 11, 2025

کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی

نومبر 17, 2021

فرشتہ

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چمپا اُداس ہے کہیں بیلا اداس...

مئی 22, 2020

اس نے جب ڈوبتے سورج کا...

مارچ 14, 2021

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں