27
رمِ حیات پہ پوری کتاب لکھوں گی
چھپے ہوئے ہیں جو اب تک وہ باب لکھو ں گی
وہ ایک شخص کہ جس نے سکھا دیا جینا
میں اُس کے نام سے پہلے جناب لکھوں گی
کئے ہیں پاؤں مر ے چھلنی جس بھی کا نٹے نے
بڑے خلوص سے اُس کو گلاب لکھوں گی
ہر ایک رنگ میں خود کو جو رنگ لیتے ہیں
میں ہر ورق پہ انھیں کامیاب لکھوں گی
پڑ ے ہیں آج بھی یہ لوگ خوابِ غفلت میں
میں ایسی قوم کو تو لاجواب لکھوں گی
رکھوں گی فاصلہ بھی درمیاں میں ملنے پر
میں اپنے لطفِ ستم کا حساب لکھوں گی
وفا سرشت ہے کوئی ہوا کرے رومی
ملے جو اس کی طرف سے عذاب لکھوں گی
رومانہ رومی
