108
دن کے بارہ بج جائیں گے جب وہ لڑکی جاگے گی
کام ادھورے کرنے والی خواب مکمل دیکھے گی
موج میں آئی مست پہاڑن نیچے والی شاخوں سے
کچا سیب اتارے گی اور آدھا کھا کر پھینکے گی
عید سے ہفتہ پہلے ہی یہ شرطیں لگنے لگتی ہیں
کیسے بال بناۓ گی وہ کون سے کپڑے پہنے گی
اتنے لوگ کہاں آتے ہیں چھوٹے سے اس کمرے میں
یہ جو تازہ عشق کیا ہے کس کونے میں رکھے گی
یارا ایک ڈرامہ ہے اور کب سے دیکھ رہا ہوں میں
مجھ سے کھیلنے والی لڑکی تجھ سے کیسے کھیلے گی
اچھا خاصا وقت لگے گا ساجد کھڑکی کھلنے میں
ہم تو بوڑھے ہو جائیں گے جب تبدیلی آئے گی
لطیف ساجد
