459
میں جس کو بھی سہارا کر رہا تھا
وہی مجھ سے کنارا کر رہا تھا
سفر بے سمت تھا در پیش مجھ کو
میں آنسو کو ستارہ کر رہا تھا
ہوا جس کے لیے جنت بدر میں
وہی خواہش دوبارہ کر رہا تھا
اسے مجھ سے کوئی مطلب تھا شاید
مری باتیں گوارا کر رہا تھا
جب آنکھیں پتھروں میں ڈھل رہی تھیں
دل ِ بینا نظارہ کر رہا تھا
صدیق صائب
