104
کب ہمارے خیال ملتے ہیں
ہوکے یوں ہی نہال ملتے ہیں
یوں نہیں مل سکوں گا تم سے میں
دل سے دھوکہ نکال، ملتے ہیں
دل وہ پنچھی ہے جس کو راہوں میں
تیر، بندوق ، جال ملتے ہیں
لاپتہ ہو کے اس ریاست میں
پھر کہاں ماں کے لعل ملتے ہیں
بھیڑیے چار سو دکھائی دیئے
بھیڑ کی اوڑھے کھال ملتے ہیں
ہم بلوچوں کے ہاں وفا کے ساتھ
تیر، تلوار، ڈھال ملتے ہیں
بارشوں کے حسین موسم میں
کب حسیں لب، وہ گال ملتے ہیں
ہے غنیمت کہ آج بھی ہم کو
گر نوالے حلال ملتے ہیں
اے مظفرؔ ہو عشق یا غربت
دکھ بھرے ماہ و سال ملتے ہیں
مظفرؔ ڈھاڈری
