خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامڈیجیٹل عہد کی چمک دمک
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک

از سائیٹ ایڈمن جون 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 30, 2026 0 تبصرے 50 مناظر
51

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک اور اسکرینوں کی مسحور کن روشنی کے پیچھے ایک ایسا عالمگیر نظام جڑیں پکڑ چکا ہے جس نے انسانی آزادی اور خود مختاری کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ ماضی کی سرمایہ داری زمین، کارخانوں اور مادی وسائل پر قبضے سے منافع کماتی تھی، لیکن اس نوآبادیاتی دور کی سب سے بڑی مہم جوئی انسان کا اپنا وجود، اس کے جذبات اور اس کے نجی تجربات بن چکے ہیں۔ انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی آلات کی دنیا میں جسے ہم ایک مفت سہولت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل ایک بہت بڑی فکری اور نفسیاتی کنٹینرائزیشن ہے جہاں صارف خود ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ وہ خام مال ہے جسے مسلسل کھود کر نکالا جا رہا ہے۔ انسان کے چوبیس گھنٹے کے معمولات، اس کی پسند و ناپسند، اس کی فکری ترجیحات اور یہاں تک کہ اس کے لاشعوری خوف کو بھی بائٹس اور ڈیٹا کی شکل میں تبدیل کر کے ایک ایسے خفیہ بازار میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انسانوں کے مستقبل کے رویوں کی پیش گوئیاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا نیا معاشی افق ہے جہاں انسانی رویوں کا یہ ضرورت سے زیادہ بچ جانے والا ڈیٹا، جسے تکنیکی زبان میں رویوں کا سرپلس کہا جاتا ہے، عام شہریوں کی لاعلمی میں ان کے نفسیاتی پروفائل تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ محض تجارتی منافع کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا نیا بساط ہے جسے دنیا کے چند بااثر کارپوریٹ اور سیاسی نیٹ ورکس مل کر چلا رہے ہیں۔ ماضی کی آمریتیں انسانوں کو مطیع کرنے کے لیے لاٹھی، گولی اور جسمانی قید کا سہارا لیتی تھیں جس سے غلام کے اندر بغاوت کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، لیکن اس جدید نگرانی کی سرمایہ داری کا سب سے بڑا ہتھیار انسانی رویوں میں خاموش ترمیم ہے۔ پیچیدہ الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کے پردے میں چھپی یہ طاقت انسان پر تشدد نہیں کرتی بلکہ اس کے شعور پر اس شاطرانہ انداز سے اثر انداز ہوتی ہے کہ وہ اپنی قید کو ہی اپنی آزاد مرضی سمجھنے لگتا ہے۔ جب آپ کو کیا سوچنا ہے، کس خبر پر یقین کرنا ہے، اور کس نظریے سے متاثر ہونا ہے، یہ سب کچھ پسِ پردہ بیٹھے الگورتھمز طے کرنے لگیں تو پھر جمہوریت، انفرادی آزادی اور قومی خود مختاری صرف ایک وہم بن کر رہ جاتی ہے۔ قانون سازی اور عوامی فلاح کے نام پر بنائے جانے والے جدید ڈیجیٹل ضابطے دراصل اس غیر مرئی قید خانے کی دیواریں بلند کرنے کے مترادف ہیں جہاں ہر شہری کی نقل و حرکت اور سوچ کو ایک مرکزی کنٹرول روم کے تابع کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کی گہرائی کا اندازہ اس تاریخی حوالے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن کمپنی نے اپنے ابتدائی دور میں یہ دریافت کیا کہ صارفین کی تلاش کے دوران پیچھے رہ جانے والا ڈیٹا صرف سروس بہتر کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کے مستقبل کے فیصلوں کی پیش گوئی کرنے کے لیے سونے کی کان کی حیثیت رکھتا ہے، تو وہیں سے اس پوشیدہ طاقت کا جنم ہوا جس نے آگے چل کر پوری دنیا کے سیاسی اور سماجی نظام کو ہائی جیک کر لیا۔
اس جدید ترین نوآبادیاتی نظام کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسانی جبلت اور شعور پر براہِ راست حملہ آور ہے اور ایک ایسی جابرانہ قوت کو جنم دے رہا ہے جو انسان کو ہانکنے کے لیے مادی ہتھیاروں کی محتاج نہیں ہے۔ ایک اور معروف مثال اس وقت سامنے آئی جب دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک نے اپنے کروڑوں صارفین کی نفسیاتی کمزوریوں اور پسند و ناپسند کا ڈیٹا ایک سیاسی مشاورتی کمپنی کو فراہم کیا، جس نے اس ڈیٹا کو مخصوص الگورتھمز کے ذریعے پروسیس کر کے ایک بڑی عالمی طاقت کے صدارتی انتخابات اور ایک بڑے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے ریفرنڈم کے نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق بدل کر رکھ دیا۔ یہ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اب کارپوریٹ اشرافیہ ریاستوں کے اندرونی معاملات اور عوامی شعور کو دور بیٹھے کنٹرول کر رہی ہے۔ یہ نظام معاشروں سے گہرائی، فلسفیانہ سنجیدگی اور اپنے حقوق کے لیے حقیقی مزاحمت کا مادہ ختم کر کے انہیں صرف ایک ایسے چکر ویو پر بٹھا دیتا ہے جہاں زراعت، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کو بڑی مہارت سے پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے اور عوام کو سطحی بحثوں کی ڈیجیٹل تسکین میں الجھا کر رکھا جاتا ہے۔ جب تک اس پسِ پردہ کارپوریٹ اشرافیہ اور ان کے وضع کردہ نیٹ ورکس کے اس شاطرانہ کھیل کو بے نقاب نہیں کیا جائے گا، تب تک دنیا حقیقی شعور اور آزادیِ رائے کے تصور سے محروم رہے گی۔ یہ دور ہمیں خبردار کرتا ہے کہ لوہے کی زنجیروں سے زیادہ خطرناک وہ ڈیجیٹل ہتھکڑیاں ہیں جو انسان خود اپنے ہاتھوں سے پہنتا ہے اور ان کے اندر مقید رہ کر اپنی آزادی کا جھوٹا جشن مناتا ہے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اسیرِ بے زباں
  • میں اپنی سوچ سے یکسر جدا ہوں
  • فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ
  • مت کر خوشی کہ ہوگئے اغیار لاپتہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟
پچھلی پوسٹ
رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر جیسا

متعلقہ پوسٹس

فاختہ کی چونچ میں دانہ

جون 15, 2020

عطر کافور

جون 15, 2020

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

جنوری 12, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

سکرین سے باہر کی دُنیا

مئی 5, 2026

پاکستان کی خوشحالی کا راستہ

اکتوبر 29, 2025

محمودہ

جنوری 17, 2020

توبۃ النصوح – فصل چہارم

اکتوبر 30, 2020

تم اچھے لگتے ہو

اکتوبر 4, 2026

محبوب محبت سے نہیں قسمت سے

جون 21, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

”انا“اورقربانی

جولائی 2, 2021

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

جنوری 2, 2020

گند منٹو اور میرے ذہن کا

جنوری 1, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں