خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامڈیجیٹل عہد کی چمک دمک
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک

از سائیٹ ایڈمن جون 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 30, 2026 0 تبصرے 10 مناظر
11

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک اور اسکرینوں کی مسحور کن روشنی کے پیچھے ایک ایسا عالمگیر نظام جڑیں پکڑ چکا ہے جس نے انسانی آزادی اور خود مختاری کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ ماضی کی سرمایہ داری زمین، کارخانوں اور مادی وسائل پر قبضے سے منافع کماتی تھی، لیکن اس نوآبادیاتی دور کی سب سے بڑی مہم جوئی انسان کا اپنا وجود، اس کے جذبات اور اس کے نجی تجربات بن چکے ہیں۔ انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی آلات کی دنیا میں جسے ہم ایک مفت سہولت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل ایک بہت بڑی فکری اور نفسیاتی کنٹینرائزیشن ہے جہاں صارف خود ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ وہ خام مال ہے جسے مسلسل کھود کر نکالا جا رہا ہے۔ انسان کے چوبیس گھنٹے کے معمولات، اس کی پسند و ناپسند، اس کی فکری ترجیحات اور یہاں تک کہ اس کے لاشعوری خوف کو بھی بائٹس اور ڈیٹا کی شکل میں تبدیل کر کے ایک ایسے خفیہ بازار میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انسانوں کے مستقبل کے رویوں کی پیش گوئیاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا نیا معاشی افق ہے جہاں انسانی رویوں کا یہ ضرورت سے زیادہ بچ جانے والا ڈیٹا، جسے تکنیکی زبان میں رویوں کا سرپلس کہا جاتا ہے، عام شہریوں کی لاعلمی میں ان کے نفسیاتی پروفائل تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ محض تجارتی منافع کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا نیا بساط ہے جسے دنیا کے چند بااثر کارپوریٹ اور سیاسی نیٹ ورکس مل کر چلا رہے ہیں۔ ماضی کی آمریتیں انسانوں کو مطیع کرنے کے لیے لاٹھی، گولی اور جسمانی قید کا سہارا لیتی تھیں جس سے غلام کے اندر بغاوت کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، لیکن اس جدید نگرانی کی سرمایہ داری کا سب سے بڑا ہتھیار انسانی رویوں میں خاموش ترمیم ہے۔ پیچیدہ الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کے پردے میں چھپی یہ طاقت انسان پر تشدد نہیں کرتی بلکہ اس کے شعور پر اس شاطرانہ انداز سے اثر انداز ہوتی ہے کہ وہ اپنی قید کو ہی اپنی آزاد مرضی سمجھنے لگتا ہے۔ جب آپ کو کیا سوچنا ہے، کس خبر پر یقین کرنا ہے، اور کس نظریے سے متاثر ہونا ہے، یہ سب کچھ پسِ پردہ بیٹھے الگورتھمز طے کرنے لگیں تو پھر جمہوریت، انفرادی آزادی اور قومی خود مختاری صرف ایک وہم بن کر رہ جاتی ہے۔ قانون سازی اور عوامی فلاح کے نام پر بنائے جانے والے جدید ڈیجیٹل ضابطے دراصل اس غیر مرئی قید خانے کی دیواریں بلند کرنے کے مترادف ہیں جہاں ہر شہری کی نقل و حرکت اور سوچ کو ایک مرکزی کنٹرول روم کے تابع کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کی گہرائی کا اندازہ اس تاریخی حوالے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن کمپنی نے اپنے ابتدائی دور میں یہ دریافت کیا کہ صارفین کی تلاش کے دوران پیچھے رہ جانے والا ڈیٹا صرف سروس بہتر کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کے مستقبل کے فیصلوں کی پیش گوئی کرنے کے لیے سونے کی کان کی حیثیت رکھتا ہے، تو وہیں سے اس پوشیدہ طاقت کا جنم ہوا جس نے آگے چل کر پوری دنیا کے سیاسی اور سماجی نظام کو ہائی جیک کر لیا۔
اس جدید ترین نوآبادیاتی نظام کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسانی جبلت اور شعور پر براہِ راست حملہ آور ہے اور ایک ایسی جابرانہ قوت کو جنم دے رہا ہے جو انسان کو ہانکنے کے لیے مادی ہتھیاروں کی محتاج نہیں ہے۔ ایک اور معروف مثال اس وقت سامنے آئی جب دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک نے اپنے کروڑوں صارفین کی نفسیاتی کمزوریوں اور پسند و ناپسند کا ڈیٹا ایک سیاسی مشاورتی کمپنی کو فراہم کیا، جس نے اس ڈیٹا کو مخصوص الگورتھمز کے ذریعے پروسیس کر کے ایک بڑی عالمی طاقت کے صدارتی انتخابات اور ایک بڑے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے ریفرنڈم کے نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق بدل کر رکھ دیا۔ یہ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اب کارپوریٹ اشرافیہ ریاستوں کے اندرونی معاملات اور عوامی شعور کو دور بیٹھے کنٹرول کر رہی ہے۔ یہ نظام معاشروں سے گہرائی، فلسفیانہ سنجیدگی اور اپنے حقوق کے لیے حقیقی مزاحمت کا مادہ ختم کر کے انہیں صرف ایک ایسے چکر ویو پر بٹھا دیتا ہے جہاں زراعت، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کو بڑی مہارت سے پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے اور عوام کو سطحی بحثوں کی ڈیجیٹل تسکین میں الجھا کر رکھا جاتا ہے۔ جب تک اس پسِ پردہ کارپوریٹ اشرافیہ اور ان کے وضع کردہ نیٹ ورکس کے اس شاطرانہ کھیل کو بے نقاب نہیں کیا جائے گا، تب تک دنیا حقیقی شعور اور آزادیِ رائے کے تصور سے محروم رہے گی۔ یہ دور ہمیں خبردار کرتا ہے کہ لوہے کی زنجیروں سے زیادہ خطرناک وہ ڈیجیٹل ہتھکڑیاں ہیں جو انسان خود اپنے ہاتھوں سے پہنتا ہے اور ان کے اندر مقید رہ کر اپنی آزادی کا جھوٹا جشن مناتا ہے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کتنی دور سے چلتے چلتے
  • موم بتی کے آنسو
  • گھوگا
  • رشوت اور اس کےنقصانات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟
پچھلی پوسٹ
رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر جیسا

متعلقہ پوسٹس

وجدان کا نکاح

جولائی 31, 2022

تنہائیِ شب

دسمبر 25, 2025

باؤلاپن اور تعویذ گنڈہ

جون 1, 2021

ڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ

دسمبر 24, 2025

نعرہ

نومبر 15, 2016

ایکسپورٹ امپورٹ

جنوری 3, 2020

25 دسمبر کا امتیاز … ولادتِ قائد اعظمؒ!

دسمبر 25, 2025

پوچھنا ہے مجھے پتہ میرا

فروری 21, 2026

ریت پر خون

جنوری 24, 2020

طلسم شب

اپریل 4, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

اسلامی گوشہ

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

اردو شاعری

انسانیت

جولائی 31, 2026

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو...

جولائی 31, 2026

مری زندگی تو فراق ہے

جولائی 30, 2026

اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

جولائی 26, 2026

آئینے کی کرچیاں

جولائی 24, 2026

اردو افسانے

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

اردو کالمز

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے!

جولائی 25, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

    جولائی 26, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شاکرہ نندنی

دسمبر 22, 2024

سکون کی تلاش

جون 13, 2025

دل درد پہ مائل کرتا ہوں

جولائی 7, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں