نئے سال کا سب سے قیمتی وعدہ: ذہنی سکون
نئے سال کی شروعات ہمیشہ امیدوں، خوابوں اور وعدوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی میں کامیابی، دولت یا دوسروں کی خوشی کو سب سے اوپر رکھتے ہیں۔ لیکن سب سے قیمتی چیز جو ہم رکھ سکتے ہیں، وہ ہے ہمارا ذہنی سکون۔ یہی وہ چیز ہے جو ہمیں اندر سے مضبوط بناتی ہے اور زندگی کے ہر فیصلے میں رہنمائی کرتی ہے۔
ذہنی سکون صرف راحت یا آرام کا نام نہیں ہے۔ یہ ہماری فلاح و بہبود، ہماری خوشی اور ہماری صحت کی بنیاد ہے۔ اگر ذہن پر سکون نہ ہو، تو دولت، شہرت یا کامیابی کی حقیقت کم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے نئے سال میں سب سے اہم وعدہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی خوشی اور سکون کو ہر چیز پر ترجیح دیں گے۔
خود کی دیکھ بھال سب سے ضروری ہے۔ مناسب نیند، متوازن غذا اور جسمانی ورزش ذہن کو تندرست رکھتے ہیں۔ روزانہ تھوڑا وقت خود کے لیے نکالیں۔ کتاب پڑھیں، چہل قدمی کریں، یا بس خاموشی میں بیٹھیں۔ یہ چھوٹی عادات دماغ کو پرسکون رکھتی ہیں اور دن بھر کی توانائی بڑھاتی ہیں۔
حدود بنانا بھی لازمی ہے۔ دوسروں کی توقعات یا منفی رویوں کی وجہ سے اپنے آپ کو قربان نہ کریں۔ اپنے لیے "نہ کہنا” سیکھیں۔ یہ آسان نہیں، مگر ذہنی سکون کی بنیاد ہے۔ منفی سوچ اور منفی ماحول سے فاصلے پر رہیں۔ مثبت سوچ اور حال میں جینے کی عادت سکون کو مضبوط کرتی ہے۔ روزانہ چھوٹی شکرگزاری کے لمحات اپنا سکون بڑھاتے ہیں۔
اچھے تعلقات ذہنی سکون کو مزید بڑھاتے ہیں۔ دوست اور خاندان جو آپ کی قدر کرتے ہیں، آپ کے دل و دماغ کو خوش رکھتے ہیں۔ منفی لوگ یا تعلقات دماغ پر بوجھ ڈال سکتے ہیں، اس لیے ان سے دور رہنا بھی ضروری ہے۔
روحانی پہلو بھی سکون کا حصہ ہے۔ دعا، نماز یا اللہ کی یاد دل کو سکون دیتی ہے۔ یہ نہ صرف ذہنی راحت دیتی ہے بلکہ انسان کو اندر سے مضبوط بھی بناتی ہے۔ روزمرہ کی چھوٹی خوشیاں، قدرتی مناظر، یوگا یا مراقبہ میں وقت گزارنا دماغ کو پرسکون اور زندگی کو خوشگوار بناتا ہے۔
خود کو پہچاننا اور عزت دینا نہ بھولیں۔ اپنے احساسات کی قدر کریں، اپنی ضروریات کا خیال رکھیں اور اپنے حق کا دفاع کریں۔ یاد رکھیں، اگر آپ خوش نہیں، تو دوسروں کو بھی خوش نہیں رکھ سکتے۔ خود کی خوشی اور سکون سب سے پہلے آنا چاہیے۔
نئے سال میں وعدہ کریں کہ آپ اپنا ذہنی سکون کبھی دوسروں کی خواہشات یا دنیاوی چہروں کے لیے قربان نہیں کریں گے۔ یہ وعدہ نہ صرف آپ کی زندگی میں سکون لائے گا، بلکہ ہر قدم پر آپ کو مضبوط اور پُرسکون بنائے گا۔
یوسف صدیقی
