خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےانار کلی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

انار کلی

ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2018
از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2018 0 تبصرے 601 مناظر
602

انار کلی

نام اُس کا سلیم تھا مگر اس کے یار دوست اسے شہزادہ سلیم کہتے تھے۔ غالباً اس لیے کہ اس کے خدو خال مغلئی تھے خوبصورت تھا۔ چال ڈھال سے رعونت ٹپکتی تھی۔ اس کا باپ پی ڈبلیو ڈی کے دفتر میں ملازم تھا۔ تنخواہ زیادہ سے زیادہ سو روپے ہو گی مگر بڑے ٹھاٹ سے رہتا ظاہر ہے کہ رشوت کھاتا تھا یہی وجہ ہے کہ سلیم اچھے سے اچھا کپڑا پہنتا جیب خرچ بھی اُس کو کافی ملتا اس لیے کہ وہ اپنے والدین کا اکلوتا لڑکا تھا۔ جب کالج میں تھا تو کئی لڑکیاں اس پر جان چھڑکتیں تھیں۔ مگر وہ بے اعتنائی برتتا ٗ آخر اُس کی آنکھ ایک شوخ و شنگ لڑکی جس کا نام سیما تھا، لڑ گئی۔ سلیم نے اُس سے راہ و رسم پیدا کرنا چاہا۔ اُسے یقین تھا کہ وہ اُس کی التفات حاصل کرلے گا۔ نہیں وہ تو یہاں تک سمجھتا تھا کہ سیما اس کے قدموں پر گر پڑے گی اور اس کی ممنون و متشکر ہو گی کہ اُس نے محبت کی نگاہوں سے اُسے دیکھا۔ ایک دن کالج میں سلیم نے سیما سے پہلی بار مخاطب ہو کر کہا

’’آپ کتابوں کا اتنا بوجھ اٹھائے ہوئی ہیں۔ لائیے مجھے دے دیجیے۔ میرا تانگہ باہر موجود ہے آپ کو اور اس بوجھ کو آپ کے گھر تک پہنچا دُوں گا۔ سیما نے اپنی بھاری بھرکم کتابیں بغل میں دابتے ہوئے بڑے خشک لہجے میں جواب دیا

’’آپ کی مدد کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ بہر حال شکریہ ادا کیے دیتی ہوں شہزادہ سلیم کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ پہنچا۔ چند لمحات کے لیے وہ اپنی خفت مٹاتا رہا۔ اس کے بعد اس نے سیما سے کہا عورت کو مرد کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ نے میری پیش کش کو کیوں ٹھکرادیا؟‘‘

سیما کا لہجہ اور زیادہ خشک ہو گیا

’’عورتوں کو مرد کے سہارے کی ضرورت ہو گی۔ مگر فی الحال مجھے ایسی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ آپ کی پیشکش کا شکریہ میں ادا کر چکی ہوں۔ اس سے زیادہ آپ اور کیا چاہتے ہیں؟‘‘

یہ کہہ کر سیما چلی گئی۔ شہزادہ سلیم جو انار کلی کے خواب دیکھ رہا تھا آنکھیں جھپکتا رہ گیا۔ اُس نے بہت بُری طرح شکست کھائی تھی اس سے قبل اُس کی زندگی میں کئی لڑکیاں آچکی تھیں جو اس کے ابرو کے اشارے پر چلتی تھیں۔ مگر یہ سیما کیا سمجھتی ہے اپنے آپ کو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خوبصورت ہے۔ جتنی لڑکیاں میں نے اب تک دیکھی ہیں اُن میں سب سے زیادہ حسین ہے مگر مجھے ٹھکرا دینا۔ یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ میں ضرور اس سے بدلہ لوں گا۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ ‘‘

شہزادہ سلیم نے اس سے بدلہ لینے کی کئی اسکیمیں بنائیں مگربار آور ثابت نہ ہوئیں اُس نے یہاں تک سوچا کہ اس کی ناک کاٹ ڈالے۔ یہ وہ جرم کر بیٹھتا مگر اسے سیما کے چہرے پر یہ ناک بہت پسند تھی۔ کوئی بڑے سے بڑا مصور بھی ایسی ناک کا تصور نہیں کرسکتا تھا۔ سلیم تو اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوا۔ مگر تقدیر نے اُس کی مدد کی اُس کی والدہ نے اُس کے لیے رشتہ ڈُھونڈنا شروع کیا نگاہِ انتخاب آخر سیما پر پڑی جو اس کی سہیلی کی سہیلی کی لڑکی تھی۔ بات پکی ہو گئی، مگر سلیم نے انکار کر دیا اس پر اُس کے والدین بہت ناراض ہوئے۔ گھر میں دس بارہ روز تک ہنگامہ مچا رہا سلیم کے والد ذرا سخت طبیعت کے تھے، انھوں نے اُس سے کہا

’’دیکھو تمھیں ہمارا فیصلہ قبول کرنا ہو گا‘‘

سلیم ہٹ دھرم تھا جواب میں یہ کہا آپ کا فیصلہ کوئی ہائی کورٹ کا فیصلہ نہیں۔ پھر میں نے کیا جرم کیا ہے جس کا آپ فیصلہ سنا رہے ہیں۔ ‘‘

اُس کے والدین کو یہ سن کر طیش آگیا

’’تمہارا جرم کہ تم ناخلف ہو۔ اپنے والدین کا کہنا نہیں مانتے۔ عدول حکمی کرتے ہو، میں تمھیں عاق کر دوں گا۔ ‘‘

سلیم کا جوش ٹھنڈا ہو گیا

’’لیکن ابا جان، میری شادی مرضی کے مطابق ہونی چاہیے‘‘

’’بتاؤ، تمہاری مرضی کیا ہے‘‘

اگر آپ ٹھنڈے دل سے سنیں تو میں عرض کروں۔ ‘‘

میرا دل کافی ٹھنڈا ہے۔ تمھیں جو کچھ کہنا ہے فوراً کہہ ڈالو۔ میں زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتا۔ سلیم نے رُک کے کہا مجھے۔ مجھے ایک لڑکی سے محبت ہے‘‘

’’اس کا باپ گرجا

’’کس لڑکی سے؟‘‘

سلیم تھوڑی دیر ہچکچایا

’’ایک لڑکی ہے‘‘

’’کون ہے وہ؟۔ کیا نام ہے اُس کا؟‘‘

سیما۔ میرے ساتھ کالج میں پڑھتی تھی‘‘

میاں افتخار الدین کی لڑکی؟ جی ہاں

’’اُس کا نام سیما افتخار ہے۔ میرا خیال ہے وہی ہے‘‘

اس کے والد بے تحاشہ ہنسنے لگے

’’خیال کے بچے۔ تمہاری شادی اُسی لڑکی سے قرار پائی ہے۔ کیا وہ تمھیں پسند کرتی ہے؟‘‘

سلیم بوکھلا سا گیا۔ یہ سلسلہ کیسے ہو گیا اُس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہیں اس کا باپ جھوٹ تو نہیں بول رہا تھا۔ سلیم سے جو سوال کیا گیا تھا اس کا جواب اس کے والد کو نہیں ملا تھا، چنانچہ انھوں نے کڑک کے پوچھا

’’سلیم مجھے بتاؤ کیا سیما تمھیں پسند کرتی ہے؟‘‘

سلیم نے کہا

’’جی نہیں‘‘

’’تم نے یہ کیسے جانا؟‘‘

’’اُس سے۔ اُس سے ایک بار میں نے مختصر الفاظ میں۔ محبت کا اظہار کیا۔ لیکن اُس نے مجھے۔ ‘‘

تمھیں درخور اعتنانہ سمجھا۔ ‘‘

جی ہاں۔ بڑی بے رخی برتی‘‘

سلیم کے والد نے اپنے گنجے سر کو تھوڑی دیر کے لیے کھجلایا اور کہا

’’تو پھر یہ رشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں تمہاری ماں سے کہتا ہوں کہ وہ لڑکی والوں سے کہہ دے کے لڑکا رضا مند نہیں‘‘

سلیم ایک دم جذباتی ہو گیا نہیں ابا جان۔ ایسا نہ کیجیے گا شادی ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا میں اُس سے محبت کرتا ہوں۔ اور کسی کی محبت اکارت نہیں جاتی۔ لیکن آپ لوگوں کو۔ میرا مطلب ہے سیما کو یہ پتہ نہ لگنے دیجیے کہ اس کا بیاہ مجھ سے ہو رہا ہے جس سے وہ بے رخی اور بے اعتنائی کا اظہار کر چکی ہے‘‘

اس کے باپ نے اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیرا‘‘

میں اس کے متعلق سوچوں گا یہ کہہ کر وہ چلے گئے انھیں ایک ٹھیکیدار سے رشوت وصول کرنا تھی اپنے بیٹے کی شادی کے اخراجات کے سلسلے میں شہزادہ سلیم جب رات کو پلنگ پر سونے کے لیے لیٹا تو اسے انار کی کلیاں ہی کلیاں نظر آئیں ساری رات وہ اُن کے خواب دیکھتا رہا۔ گھوڑے پر سوار باغ میں آیا ہے۔ شاہانہ لباس پہنے۔ اسپ تازی سے اُتر کر باغ کی ایک روش پر جا رہا ہے کیا دیکھتا ہے کہ سیما انار کے بوٹے کی سب سے اُونچی شاخ سے ایک نوخیز کلی توڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کی بھاری بھرکم کتابیں زمین پر بکھری پڑی ہیں۔ زُلفیں اُلجھی ہوئی ہیں اور وہ اُچک اُچک کر اُس شاخ تک اپنا ہاتھ پہنچانے کی کوشش کررہی ہے مگر ہر بار ناکام رہتی ہے۔ وہ اُس کی طرف بڑھا انار کی جھاڑی کے پیچھے چھپ کر اس نے اُس شاخ کو پکڑا اور جھکا دیا سیما نے وہ کلی توڑ لی جس کے لیے وہ اتنی کوشش کرہی تھی۔ لیکن فوراً اُسے اس بات کا احساس ہوا کہ وہ شاخ نیچے کیسے جھک گئی۔ وہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ شزادہ سلیم اُس کے پاس پہنچ گیا سیما گھبرا گئی لیکن سنبھل کر اُس نے اپنی کتابیں اُٹھائیں اور بغل میں داب لیں انارکلی اپنے جوڑے میں اڑس لی اور یہ خشک الفاظ کہہ کر وہاں سے چلی گئی آپ کی امداد کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ بحرحال شکریہ ادا کیے دیتی ہوں۔ ‘‘

تمام رات وہ اسی قسم کے خواب دیکھتا رہا۔ سیما اُس کی بھاری بھرکم کتابیں، انار کی کلیاں اور شادی کی دُھوم دھام۔ شادی ہو گئی۔ شہزادہ سلیم نے اُس تقریب پر اپنی انار کلی کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھ پائی تھی وہ اُس لمحے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ جب سیما اُس کی آغوش میں ہو گی۔ وہ اُس کے اتنے پیار لے گا کہ وہ تنگ آ کر رونا شروع کردے گی۔ سلیم کو رونے والی لڑکیاں بہت پسند تھیں اُس کا یہ فلسفہ تھا کہ عورت جب رو رہی ہو تو بہت حسین ہو جاتی ہے اُس کے آنسو شبنم کے قطروں کے مانند ہوتے ہیں جو مرد کے جذبات کے پھولوں پر ٹپکتے ہیں جن سے اُسے ایسی راحت، ایسی فرحت ملتی ہے جو اور کسی وقت نصیب نہیں ہوسکتی۔ رات کے دس بجے دولہن کو حجلہ عروسی میں داخل کر دیا گیا۔ سلیم کو بھی اجازت مل گئی کہ وہ اُس کمرے میں جاسکتا ہے لڑکیوں کی چھیڑ چھاڑ اور رسم و رسوم سب ختم ہو گئی تھیں وہ کمرے کے اندر داخل ہوا۔ پھولوں سے سجی ہوئی مسہری پر دولہن گھونگھٹ کاڑھے ریشم کی گٹھڑی سی بنی بیٹھی تھی۔ شہزادہ سلیم نے خاص اہتمام کر لیا تھا کہ پھول، انار کی کلیاں ہوں۔ وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ مسہری کی طرف بڑھا اور دولہن کے پاس بیٹھ گیا کافی دیر تک وہ اپنی بیوی سے کوئی بات نہ کرسکا۔ اُس کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اُس کی بغل میں کتابیں ہوں گی جن کو وہ اُٹھانے نہیں دے گی آخر اُس نے بڑی جرأت سے کام لیا اور اُ سے کہا

’’سیما۔ ‘‘

یہ نام لیتے ہی اُس کی زُبان خشک ہو گئی لیکن اُس نے پھر جرأت فراہم کی اور اپنی دولہن کے چہرے سے گھونگھٹ اُٹھایا اور بھونچکارہ گیا۔ یہ سیما نہیں تھی کوئی اور ہی لڑکی تھی۔ انار کی ساری کلیاں اُس کو ایسا محسوس ہوا کہ مرجھا گئی ہیں

سعادت حسن منٹو

یکم جون ۵۴ ؁ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رونا رُلانا
  • دیدۂ یعقوب
  • مرد : درد کا سفیر
  • پنجرے سے پرواز
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اللہ دتا
پچھلی پوسٹ
وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں

متعلقہ پوسٹس

پردہ فاش

جنوری 24, 2020

افسر کا فن

مئی 17, 2025

خالد میاں

اکتوبر 24, 2020

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

اپریل 24, 2020

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

اپریل 28, 2026

مختار مسعود کی تحریریں

ستمبر 22, 2025

طلاق اور خلع کی عدت میں فرق

جنوری 24, 2022

تاریکی میں ڈوبتی دنیا

مئی 2, 2024

سلطان ٹیپو

مئی 25, 2024

قدیم ترین عشقیہ گیت

فروری 14, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ

مئی 19, 2024

ایچی سن کالج – شاندار ادارہ...

اپریل 2, 2026

واپسی

جون 2, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں