خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممرد : درد کا سفیر
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرپیر انتظار حسین مصور

مرد : درد کا سفیر

از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026 0 تبصرے 45 مناظر
46

بستی بھر میں اس کے چرچے تھے۔ وہ چہرہ کیا تھا، گویا ہنستا مسکراتا ایک چنچل سا استعارہ، جس کی شوخی اور رعنائی کا کوئی ثانی نہ تھا۔ قدرت نے اسے حسن سے نوازا تھا اور قسمت نے اسے ایک بڑا افسر بنا دیا تھا۔ مگر اس چمکتے ہوئے افسر کے پیچھے ایک بیوہ ماں کی وہ خاموش مشقت تھی جس نے غربت کے تھپیڑوں میں اسے پالا، برتن دھوئے اور فاقے کاٹ کر اسے اس مقام تک پہنچایا۔
وہ جتنا وجیہہ تھا، اس کا دل اتنا ہی موم کا تھا۔ بچپن کا وہ منظر آج بھی ماں کی آنکھوں میں لہراتا تھا جب صحن میں ایک زخمی پرندہ گرا تھا۔ وہ بچہ، جسے آج سب "بڑا صاحب” کہتے تھے، اس پرندے کو سینے سے لگا کر دھاڑے مار مار کر رو رہا تھا۔ اس کی ہچکیاں بند نہیں ہو رہی تھیں اور وہ بار بار تڑپ کر پوچھتا، "امی! اس معصوم کو کس ظالم نے مارا؟ اسے کتنا درد ہو رہا ہوگا نا؟” اس دن ماں نے جان لیا تھا کہ اس کا بیٹا بہت حساس ہے، یہ کسی کا دکھ برداشت نہیں کر سکتا۔ تبھی تو جب کبھی وہ ذرا سا پریشان ہوتا، ماں اس کا سر گود میں رکھ کر کہتی، "پریشان نہ ہو میرے بچے، میں ہوں نا!” اور جب اسے بخار ہوتا تو ماں کی راتیں اس کے سرہانے جاگ کر کٹتیں۔ اسے زمانے کی ہر تپش سے بچانے والی وہ ماں، اسے زندگی کی ہر تلخی سے دور رکھتی آئی تھی۔
پھر اس کی زندگی میں محبت آئی۔ ایک ایسا سحر جس نے اسے قید کر لیا۔ اس کی شادی ہو گئی، مگر یہ محبت اپنے ساتھ ایک کڑا امتحان لے کر آئی۔ ایک شام، جب وہ تھکا ہارا گھر لوٹا، تو اس کی بیوی نے انا اور ضد کی دیوار کھڑی کر دی:
"یا تو تم اپنی ماں کے ساتھ رہو گے، یا میرے ساتھ۔ آج فیصلہ کر لو، تمہیں کسے رکھنا ہے؟”
اس کے سامنے دو راستے تھے، اور دونوں ہی اس کے وجود کا حصہ تھے۔ ایک طرف وہ ماں تھی جس کی ممتا نے اسے عدم سے وجود بخشا، اور دوسری طرف وہ پیار جس کے بنا اسے جینا محال لگتا تھا۔ اس کے حساس دل پر جیسے آرے چلنے لگے۔ اسے اپنا وہ بچپن یاد آیا، ماں کی وہ لوریاں، وہ بے لوث قربانیاں، اور پھر اسے اپنی بیوی کی وہ بے رخی یاد آئی جو اب شرطیں رکھ رہی تھی۔ وہ کچھ وقت مانگ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ اسے لگا جیسے وہی زخمی پرندہ آج اس کے اپنے سینے کے اندر تڑپ رہا ہے۔ وہی ہچکیاں، وہی کرب، مگر آج وہ بڑا ہو گیا تھا، آج وہ رو بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کا حساس دل اس کشمکش کا بوجھ نہ سہہ سکا۔ محبت اور ممتا کی اس جنگ میں اس کے دل کی دھڑکنیں آہستہ ہوئیں اور پھر ہمیشہ کے لیے تھم گئیں۔
کچھ دیر بعد جب بیوی غصے میں بھری کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں ایک ہولناک خاموشی تھی۔ وہ ہنستا مسکراتا چہرہ اب ساکت تھا۔ بیوی دھاڑے مار مار کر رونے لگی، وہی بیوی جو تھوڑی دیر پہلے اسے چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہی تھی۔ دوست احباب جمع تھے، جو جانتے تھے کہ وہ کتنا حساس تھا، کسی کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ماں صحن میں بیٹھی پتھر بنی آسمان کو تک رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، بلکہ ایک عجیب سی سرد مہری تھی۔ وہ بہو کے پاس آئی، جو لاش سے لپٹ کر معافیاں مانگ رہی تھی، اور بڑے کرب سے بولی:
"بیٹی! اسے اب تیرے رونے سے فرق نہیں پڑے گا۔ تو نے تو صرف اس سے ‘گھر’ مانگا تھا نا؟ دیکھ، اس نے تیرے لیے پورا جہاں چھوڑ دیا۔ تو جیت گئی ہے اور میرا بیٹا ہار گیا ہے۔”
آج کی عورت کے لیے اس کہانی میں ایک بہت بڑا سبق چھپا ہے۔ انا اور ضد اکثر ان جذبوں کا خون کر دیتی ہے جو دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ وہ مرد جو زمانے کی نظر میں ایک ‘بڑا افسر’ تھا، درحقیقت اپنی ماں کی ممتا اور اپنی بیوی کی محبت کے درمیان پسنے والا ایک ایسا سفیر تھا جس نے اپنے حصے کا سارا درد خود پی لیا تاکہ رشتوں کا بھرم رہ سکے، مگر رشتوں نے اس کا بھرم نہ رکھا۔
وہ مرد تھا، جو اپنی جبلت میں تو مضبوط تھا، مگر حقیقت میں وہ "درد کا سفیر” بن کر خاموشی سے رخصت ہو گیا۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہمالیہ کی چوٹی
  • کیوں سے کہاں تک
  • کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟
  • میجر عدنان: ایک زندہ روایت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کتن والی
پچھلی پوسٹ
چیونٹیاں

متعلقہ پوسٹس

کس قدر مشکلات سے گزرا

دسمبر 12, 2025

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

جون 3, 2020

انسانیت کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے

اگست 25, 2025

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

ایسا عجیب غصہ تھا کہ آ گ لگ گئی

دسمبر 12, 2025

آئینۂ جمال

دسمبر 31, 2024

زندگی۔۔۔ایک آزمائش

ستمبر 25, 2020

کیا یہ غور طلب نہیں!

اگست 30, 2024

ایران – امریکہ تعلقات کا تاریخی پس منظر

اپریل 26, 2026

شہری آبادی میں اضافہ: ایک سنگین چیلنج

ستمبر 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہماری کلاسیکی غزل کی شعریات

مئی 27, 2024

کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟

اپریل 29, 2026

عزت صحت اور محبت

جنوری 25, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں