خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباقدیم ترین عشقیہ گیت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

قدیم ترین عشقیہ گیت

از سائیٹ ایڈمن فروری 14, 2021
از سائیٹ ایڈمن فروری 14, 2021 0 تبصرے 64 مناظر
65

قدیم ترین عشقیہ گیت

انیسویں صدی عیسوی تک عہد نامۂ قدیم میں شامل ”غزل الغزلات“ قدیم ترین عشقیہ گیت جانا جاتا تھا۔ یہ اس مجموعہ میں شامل سب سے متاثر کن کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کو بائبل کا حصہ متصور کرنے پر ابتدائی عہد کے ربیوں میں بہت بحث و تمحیص جاری رہی لیکن جب شامل کر لیا گیا تو سب سے زیادہ اس کی تشریحات کی گئیں۔ کچھ لوگ اس کو خدائی نعمت، جنسی محبت کا ایک نغمہ کہتے ہیں اور بہت سے اس میں موجود دلہن کو عبرانی قوم اور محبوب چراوھے کو یہودیوں کے خدا یہواہ کا استعارہ گردانتے ہیں۔

انیسویں صدی سے پیشتر عہد قدیم کے بارے میں ہماری معلومات بہت ناقص اور محدود تھیں۔ ماضی زمین کے سینے میں دفن تھا اور ہمیں ان دفینوں کی خبر تھی اور نہ ہمارے پاس ان کی تلاش و تحقیق کا کوئی ذریعہ موجود تھا۔ ہماری معلومات کا کل اثاثہ چند مذہبی کتابیں تھیں۔ مذہبی علماء کے بیانات حتمی مانے جاتے تھے۔ ان کی مخالفت میں دلائل یا ثبوت بھی کم ہی موجود تھے۔ ان مذہبی کتابوں میں بائبل سب سے اہم تھی۔ اس میں آدم کی پیدائش سے شروع ہو کر قرون وسطیٰ تک ترتیب سے تمام تاریخ بیان کی گئی تھی۔ سید سبط حسن لکھتے ہیں:

”سترہویں صدی کے ایک پادری اشر نے انجیل کی کتاب پیدائش کے مطالعہ سے یہ ثابت کیا تھا کہ ظہور آدم کا واقعہ 4004 قبل مسیح میں پیش آیا تھا اور دانایان مغرب نے پادری اشر کی اس کاوش کو بہت سراہا تھا۔ لیکن انیسویں صدی میں جب سائنس نے ترقی کی اور نئے نئے علوم مثلاً علم الارض، علم الحیوان اور علم الافلاک کو فروغ ہوا تو زمین اور زندگی کی عمریں متعین ہونے لگیں۔“ اشر کے اندازے کے مطابق ظہور آدم کا یہ دور تقریباً وہی بنتا ہے جب پتھر کا دور ختم ہو رہا تھا اور کانسی کے آلات بننا شروع ہو گئے تھے۔ اسی دور کو زمانہ قبل از تاریخ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے بہت پہلے 6000 سے 8000 قبل مسیح میں نیل، سندھ، دجلہ و فرات اور چین کے چانگ جیانگ اور ہوانگ ہو وادیوں میں زراعت کا آغاز ہو چکا تھا۔

بائبل کے واقعات اور کہانیوں کے ثبوت حاصل کرنے کے لیے 51۔ 1845 کے درمیان بائبل میں مذکور مقامات کی کھدائی کی گئی۔ اس دوران عراقی قدیم شہر نینوا ( جدیدنیفر ) میں اسوریائی بادشاہ اشور بنی پال کا ذاتی کتب خانہ دریافت ہوا جس میں بہت سی مٹی کی تکونی تختیاں ملیں۔ یہ نوشتے تجارتی معاہدوں، شاہی مہموں، مذہبی دعاؤں کے ساتھ ساتھ رزمیہ داستانوں اور دیوتاؤں کے قصوں پر مشتمل ہیں۔ متأثر کن بات یہ تھی کہ بائبل کی سچائی کو ثابت کرنے کی کوشش میں اس لائبریری نے اس بات کا ثبوت فراہم کیا کہ بائبل میں شامل بہت سی کہانیاں بہت پہلے دجلہ و عرفات کی سر زمین میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھیں۔

ان میں سے ہی مٹی کی ایک تختی استنبول کے عجائب گھر میں ’استنبول 2561‘ کے نام سے ایک عرصہ تک محفوظ پڑی رہی۔

انیسویں صدی تک سب سے قدیم عشقیہ گیت کے نام سے جانی جانے والی کتاب ’غزل الغزلات‘ تقریباً ہزار سال قبل مسیح میں بادشاہ سلیمان کے دورمیں لکھی گئی۔ ’استنبول 2561‘ نامی لوح پر بھی ایک نظم موجود ہے۔ ستم ظریفی کی بات ہے کہ یہ نظم جس لوح پر لکھی ہوئی ہے وہ دو ہزار قبل مسیح کی تحریر ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا مزاج اور ماحول بلاشبہ چار پانچ ہزار قبل مسیح کا ہے جب کہ اہل عراق زراعت کے ابتدائی دور سے گزر رہے تھے۔

بہت عرصہ بعد ماہر آثار قدیمہ سموئیل نوح کرائمر نے اس کا ترجمہ کیا۔ کرائمر لکھتا ہے:

”جب میں نے پہلی بار اس پر نگاہ ڈالی تو اس کی سب سے پرکشش خصوصیت اس کی حفاظت کی حالت تھی۔ مجھے جلد ہی احساس ہوا کہ میں ایک ایسی نظم پڑھ رہا ہوں جس میں متعدد بند موجود ہیں اور جن میں خوبصورتی اور محبت کا جشن منایا گیا ہے۔ اس نظم میں ایک شاداں و فرحاں دلہن اور شوسن نامی بادشاہ کا ذکر تھا۔ جیسے ہی میں نے اسے بار بار پڑھا، اس میں کوئی غلطی محسوس نہیں ہوئی۔ جو کچھ میں نے اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا ، وہ انسان کے ہاتھ سے لکھا گیا سب سے پرانا گیت تھا۔“

یہ نظم بادشاہ کی عنانہ دیوی کے مندر کی ایک پجارن سے شادی کے موقع پر مذہبی رسم کے طور پر پڑھی جاتی تھی۔ یہ رسم بادشاہ اورمحبت و زرخیزی کی سمیری دیوی عنانہ کی علاماتی شادی کے طور پر منائی جاتی تھی۔ شوسن بادشاہ بیسویں اکیسویں صدی قبل مسیح میں ار شہر پر حکمران تھا۔ یہ زرعی دور تھا اور ہر سال موسم بہار کے آغاز میں بادشاہ اور دیوی کے ملاپ کا مقصد زمین میں زرخیزی اور خوشحالی یقینی بنانا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بادشاہ کا دیوی دیوتاؤں سے رشتہ ان کے حق حکمرانی کو مزید مضبوط کرتا تھا۔

یہ نظم بادشاہ کی ہونے والی دلہن گاتی تھی۔ اس میں دلہن مستقبل کے شوہر کے ساتھ اپنی محبت کو انتہائی شہوانی جذبات میں پیش کرتی ہے۔ بادشاہ کی تعریف اور اس سے محبت کا مظاہرہ کر کے، دلہن اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ محبت، جنسی تعلق اور اس کی بادشاہ کی برکت سے ملک خوشحال ہو گا۔

میرے نوشہ، جانی میرے دل کے
اے حسین مہربان، شہد سے میٹھے
میرے شیر، جانی میرے دل کے
اے حسین مہربان، شہد سے میٹھے
مجھے موہ لینے والے، مرتعش بدن والی کو سامنے رہنے دے
میرے دلہا! سمیٹ کر مجھے، سہاگ کی سیج پر لے جا
مجھے موہ لینے والے، مرتعش بدن والی کو سامنے رہنے دے
میرے شیر! میرے دلہا! سمیٹ کر مجھے، سہاگ کی سیج پر لے جا
میرے نوشہ، مجھے ہم آغوش ہونے دے
شہد سے لذیذ ہے، میرا انمول لمس
سہاگ کی سیج پر، اے شہد سے لبالب ساغر
لطف اندوز ہونے دے مجھے، دلکش جمال سے
میرے شیر، ہم آغوش ہونے دے مجھے
شہد سے زیادہ لذیذ ہے، میرا انمول لمس
نوشہ! کیف آگیں ہو چکا، تو مجھ سے
بتلا میری ماں کو! وہ خاطر داری کرے لذیذ پکوانوں سے
میرا باپ! وہ نذرانے پیش کرے تجھے
تیری روح! میں جانتی ہوں، تیری روح کو کہاں شاد باش کروں
میرے نوشہ! محو استراحت رہو، ہمارے گھر میں، طلوع فجر تک
تمہارا دل! میں جانتی ہوں، تمہارا دل، کہاں شاداں و فرحاں ہو گا
میرے شیر! محو استراحت رہو، ہمارے گھر میں، طلوع فجر تک
مجھے مانگنے دے، ہمیشہ تیری آغوش، تیرا ساتھ
میرے آقا، میرے دیوتا۔ میرے خدا، میرے حفیظ
میرے شو سن! تو جو شاداں کرتا ہے، این لل کے دل کو
ہمیشہ تیری آغوش، تیرا ساتھ، مجھے مانگنے دے
تیرا مقام، تیرا ساتھ شہد کی مانند دلکش۔ رکھنا اس پر اپنا ہاتھ
دست کرم رکھنا گشبن پوشاک کی طرح
ہاتھوں کے پیالے میں محفوظ رکھنا، گشبن سیکن پوشاک کی طرح

شو سن کی یہ نظم اب تک کی دریافت شدہ سب سے قدیم عشقیہ نظم ہے۔ اس سے تقریباً ایک ہزار سال بعد لکھی گئی غزل الغزلات کی بہت سی آیات اس سے ملتی جلتی دکھائی دیتی ہیں۔ غزل الغزلات شو سن کی نظم سے انتہائی متاثر محسوس ہوتی ہے ، بالکل ویسے ہی جیسے ہم آج عمر خیام اور امیر خسرو کی شاعری کے جادو کے زیر اثر ہیں۔

اس میں دیوی یا پجارن زمین اور عوام کا استعارہ ہیں اور بادشاہ خدا کا یا پھر عنانہ دیوی کے خاوند دیموذی کا جو کہ ایک گڈریا تھا۔ غزل الغزلات کا ہیرو بھی ایک چرواہا (یہواہ ) ہے اور اس کی دلہن شولمیت (عبرانی قوم) تاکستان میں کام کرتی ہے۔ بائبل کے اس گیت میں جنسی ملاپ اور عشق استعارہ ہے یہواہ اور انسان کی محبت کا اور اس میں بھی بادشاہ ( یا دیوتا ) اور اس کی دلہن، زرخیزی کی دیوی کا پیار بھی وہی بیان کر رہا ہے۔

بہت سے الفاظ بھی اس گیت نے شو سن کی نظم سے مستعار لیے ہیں ، اگرچہ دونوں کے درمیان کم از کم ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ غزل الغزلات کے چوتھے گیت میں بہت سے استعارے اس نظم سے لیے گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا کہ یہودیوں نے بابل کی اسیری کے دوران اس نظم کو سیکھ لیا تھا، جو ان کے لاشعور میں محفوظ ہو گئی۔

اس نظم میں شہد کا ذکر اور شہد کا لبالب بھرے ساغر کا ذکر بار بار آتا ہے اور غزل الغزلات میں بھی۔ اس میں تو شہد و شیر کے سوتے شولمیت کی زبان کے نیچے پھوٹتے ہیں۔ اس نظم کی طرح غزل الغزلات کی شولمیت بھی ہیرو کو پکارتی ہے کہ وہ اسے اپنی خواب گاہ کی طرف لے جائے طلوع فجر تک لطف اندوز ہونے کے لیے۔ دونوں میں جنسی کشش اور دیوانگی عروج پر ہے۔ دونوں نظموں کو زبان عورت کی دی گئی ہے اور انتہا درجہ کی جنسی ملاپ کی خواہش اور تڑپ کا ذکر ہے۔

شو۔ سن کی نظم کا آخری بند قیمتی ریشمی پوشاک اوڑھے ہوئے ہے ، وہی پوشاک جو غزل الغزلات میں لبنان کے ریشم کی خوشبو سے معطر ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دونوں گیت عشق و محبت، تڑپ اور جنسی کشش کو بہت اچھی طرح بیان کرتے ہیں۔ غزل الغزلات پر تیس صدیوں سے کام ہو رہا ہے۔ اس کی نوک پلک ہمیشہ ہی سنواری جاتی رہی ہے۔ شو سن کی نظم کی بدقسمتی دیکھیں کہ اسے ”استنبول 2561“ جیسا غیر ادبی نام ملا ہے لیکن یہ قدیم ترین گیت چالیس صدیوں تک زمین میں دفن رہنے کے باوجود انسان کے جذبات کی بہترین ترجمانی کر رہا ہے۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟
  • کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں
  • کیوں سے کہاں تک
  • نیند کرتے ہیں مر نہیں جاتے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مل رہے ہو صف – دشمن میں
پچھلی پوسٹ
شوق آوارگی مبارک ھو

متعلقہ پوسٹس

زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ

نومبر 23, 2019

دل کو مآل ِ عشق سے بیگانہ کیجیے

اپریل 23, 2020

پاسپورٹ

مئی 20, 2020

عید قربان معارف و اسباق

جولائی 31, 2020

نسل نو میں عدم برداشت

اپریل 5, 2020

جگرنرخ کے ٹکڑے

دسمبر 30, 2013

یہ جو ٹینشن ہے، دشمن ہے ہمارا

مئی 25, 2024

قسط وار ناول بہرام: پہلی قسط

جولائی 31, 2022

رہتے ہیں یہ جو آپ کے اتنے قریب لوگ

اپریل 7, 2020

تم کبھی آؤ شام سے پہلے

جون 24, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیر عدم

جنوری 16, 2026

کسی کی یاد آنے پر مجھے...

نومبر 5, 2020

ہجویاتِ سودا

اپریل 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں