قرآنِ مجید کے مکی دور کی آیات پر اگر گہرے تدبر کے ساتھ نظر ڈالی جائے تو ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ قرآن نے لفظ کفر اور کافر کو نہایت محتاط، بامقصد اور مخصوص سیاق میں استعمال کیا ہے، نہ کہ ایک عمومی سماجی یا تہذیبی اصطلاح کے طور پر۔
مکی دور میں بعض ایسی آیات نازل ہوئیں جن میں عرب سے باہر کی غیر مسلم اقوام کا ذکر موجود ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ روم کے آغاز میں رومیوں کا ذکر آتا ہے، جو اس وقت عیسائی تھے اور ایرانیوں (مجوسیوں) کے ہاتھوں وقتی شکست سے دوچار ہو گئے تھے۔ قرآن کہتا ہے:
غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ۔
لیکن یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ کفارِ روم مغلوب ہو گئے، حالانکہ عقیدے کے اعتبار سے وہ مسلمان نہیں تھے۔ قرآن نے انہیں ان کے قومی اور تاریخی نام سے یاد کیا: الروم۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن ہر غیر مسلم قوم کو لازماً "کافر” کے عنوان سے یاد کرنے کا قائل نہیں۔
اسی طرح سورۂ فیل میں یمن کے غیر مسلم حکمراں ابرہہ اور اس کے لشکر کا ذکر ہے، جو خانۂ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ مگر قرآن نے ابرہہ کو "کافر حکمران” نہیں کہا، بلکہ پورے واقعے کو اصحابِ فیل کے عنوان سے بیان کیا۔ یہ اسلوب بتاتا ہے کہ قرآن کا مقصود محض واقعے کی تصویر کشی ہے، نہ کہ کرداروں کو اعتقادی القابات سے موسوم کرنا۔
البتہ مکہ کے وہ منکرین جنہوں نے براہِ راست رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا انکار کیا، حق کو پہچاننے کے بعد ضد اور عناد کا راستہ اختیار کیا، ان کے لیے قرآن میں کفر اور کافر کے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن میں کفر ایک دعوتی اور اعتقادی اصطلاح ہے، جو مخصوص رویّے اور انکار کی کیفیت پ دلالت کرتی ہے، نہ کہ ہر غیر مسلم کے لیے ایک عمومی لیبل۔
یہی قرآنی مزاج ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ میں بھی پوری وضاحت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہاں مختلف مذاہب اور قبائل کے لوگ آباد تھے: مسلمان، یہودی، مشرکین اور دیگر۔ لیکن آپ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر جو پہلا خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں غیر مسلموں کو کفار سے مخاطب نہیں کیا، بلکہ فرمایا:
یا أیها الناس، اتقوا النار ولو بشق تمرة
یعنی: اے لوگو! آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
یہ خطاب اس بات کی روشن دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے سماجی اور دعوتی سطح پر انسانوں کو پہلے انسان کے طور پر مخاطب کیا، نہ کہ کافر اور غیر کافر کی تقسیم کے ذریعے۔
مدینہ اور اس کے اطراف میں جو غیر مسلم قبائل آباد تھے، انہیں بھی کبھی "کافر قبائل” نہیں کہا گیا، بلکہ ان کے معروف قبائلی ناموں سے پکارا گیا: اہلِ ثقیف، اہلِ نجران، اہلِ بحرین وغیرہ۔ یہ طرزِ خطاب اسلامی تہذیب کی وسعت، شرافت اور حکمت پر دلالت کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ کا مطالعہ بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔ جب دورِ اوّل کے مسلمان عرب سے نکل کر شام، مصر، ایران، افریقہ اور وسطی ایشیا کے علاقوں میں داخل ہوئے تو انہیں مختلف مذاہب کے ماننے والے ملے جیسے عیسائی، یہودی، مجوسی، بودھ اور دیگر۔ مگر مسلمانوں نے ان سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے بجائے، ہر قوم کو اس کے مذہبی اور تہذیبی نام سے پہچانا اور پکارا۔ چنانچہ شام کے عیسائی مسیحی کہلائے، فلسطین کے یہودی یہودی، ایران کے مجوسی مجوسی اور افغانستان و ماوراء النہر کے بودھ بودھ کہلائے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے بعد بھی یہی روش برقرار رہی۔ یہاں کے غیر مسلموں کو "کفارِ ہند” کہنے کے بجائے ہندو کہا گیا، جو دراصل "سِندھو” کا عربی تلفظ ہے۔ عظیم مسلم محقق ابو الریحان البیرونی (وفات: 1048ء) نے ہندوستان کا طویل سفر کیا، سنسکرت سیکھی، اور ہندوستان کے مذہب، فلسفے اور معاشرت پر ایک مفصل عربی کتاب تصنیف کی۔ اس کتاب میں انہوں نے ہندوستان کے غیر مسلموں کو مسلسل "ہندو” کہا، نہ کہ "کافر”۔ یہ علمی دیانت اور تہذیبی شعور کی اعلیٰ مثال ہے۔
یہ طرزِ فکر اور اسلوبِ خطاب صدیوں تک مسلمانوں میں رائج رہا، تقریباً ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک۔ حتیٰ کہ آج بھی دنیا کے بیشتر حصوں میں یہی طریقہ عملاً موجود ہے۔ یورپ اور امریکا میں آباد مسلمان، جہاں وہ عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ رہتے ہیں، انہیں ان کے مذہبی یا قومی ناموں سے ہی پکارتے ہیں، نہ کہ کافر یا کفار کہہ کر۔
ان تمام شواہد سے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ کفر اور کافر قرآن کی اصطلاحات ہیں، جن کا تعلق بنیادی طور پر ایمان و انکار، دعوت و ردّ، اور حق کے مقابلے میں انسان کے رویّے سے ہے۔ یہ الفاظ سماجی گفتگو، بین المذاہب تعلقات یا روزمرہ تہذیبی معاملات کے لیے وضع نہیں کیے گئے۔ جب ان اصطلاحات کو ان کے اصل قرآنی سیاق سے ہٹا کر عمومی معاشرتی لیبل بنا دیا جاتا ہے تو اس سے جہاں فہمِ قرآن میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے وہیں اسلامی تہذیب کی وسعت اور اخلاقی حسن بھی مجروح ہوتا ہے۔
چنانچہ قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ اور تاریخِ اسلام تینوں کی روشنی میں درست رویّہ یہی ہے کہ غیر مسلموں کو ان کے اپنے معروف ناموں سے یاد کیا جائے، اور کفر و ایمان کی بحث کو اس کے علمی، اعتقادی اور دعوتی دائرے تک محدود رکھا جائے۔ یہی منہج حکمت، عدل اور حسنِ دعوت کا تقاضا ہے۔
ابو خالد قاسمی
