خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےمرزا غالبؔ کی حشمت خاں کے گھر دعوت
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

مرزا غالبؔ کی حشمت خاں کے گھر دعوت

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن فروری 7, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 7, 2020 0 تبصرے 389 مناظر
390

مرزا غالبؔ کی حشمت خاں کے گھر دعوت

جب حشمت خاں کو معلوم ہو گیا ہے کہ چودھویں(ڈومنی) اس کے بجائے مرزا غالبؔ کی محبت کا دم بھرتی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی ماں کو ہر مہینے کافی روپے دیتا ہے اور قریب قریب طے ہو چکا ہے کہ اس کی مسی کی رسم بہت جلد بڑے اہتمام سے ادا کردی جائے گی، تو اس کو بڑا تاؤ آیا۔ اس نے سوچا کہ مرزا نوشہ کو کسی نہ کسی طرح ذلیل کیا جائے۔ چنانچہ ایک دن مرزا کو رات کو اپنے یہاں مدعو کیا۔ مرزا غالب وقت کے بڑے پابند تھے۔ جب حشمت خاں کے ہاں پہنچے تو دیکھا کہ گنتی کے چند آدمی چھولداری کے نیچے شمعوں کی روشنی میں بیٹھے ہیں۔ گاؤ تکیے لگے ہیں۔ اُگالدان جابجا قالینوں پر موجود پڑے ہیں۔ غالب آئے، تعظیماً سب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے معانقہ کیا اور حشمت خاں سے مخاطب ہوئے

’’ہائیں۔ خاں صاحب یہاں تو سنّاٹا پڑا ہے۔ ابھی کوئی نہیں آیا؟‘‘

حشمت خاں مسکرایا

’’یوں کیوں نہیں کہتے کے اندھیرا پڑا ہے۔ چودھویں آئے تو ابھی چاندنی چھٹک جائے۔ ‘‘

مرزا غالبؔ نے یہ چوٹ بڑے تحمل سے برداشت کی۔

’’سچ تو یوں ہے کہ آپ کے گھر میں چودھویں کے دم سے روشنی ہے۔ ہتکڑیوں کی جھنکار اور آپ کی تیز رفتار کے سوا دھرا ہی کیا ہے؟‘‘

حشمت خاں کھسیانا سا ہو گیا۔ اس کو کوئی جواب نہ سوجھا۔ اتنے میں دو تین اصحاب اندر داخل ہوئے جن کو حشمت خاں نے مدعو کیا تھا۔ آگے آئیے جناب جمیل احمد خاں صاحب۔ آئیے اور بھئی سرور خاں، تم نے بھی حد کردی۔ ‘‘

حشمت خاں کے ان مہمانوں نے جو اس کے دوست تھے، موزوں و مناسب الفاظ میں معذرت چاہی اور چاندنی پر بیٹھ گئے۔ حشمت خاں نے اپنے ملازم کو اپنی گرج دار آواز میں بلایا

’’منے خاں!‘‘

’’بی چودھویں ابھی تک نہیں آئیں۔ کیا وجہ؟‘‘

منے خاں نے عرض کی

’’جی حضور، بہت دیر سے آئی ہیں، لال کمرے میں ہیں۔ سارے سماجی حاضر ہیں۔ کیا حکم ہے؟‘‘

حشمت خاں طشتری میں سے پان کا چاندی اور سونے کے ورق لگا ہوا بیڑا اٹھایا اور اپنے نوکر کو دیا

’’لو یہ بیڑا دے دو۔ محفل میں آجائیں گانا اور ناچ شروع ہو۔ ‘‘

مُنے خاں لال کمرے میں گیا۔ چودھویں، چُوڑی دار پائجامہ پہنے دونوں ٹخنوں پر گھنگھرو باندھے تیار بیٹھی تھی۔ اس نے اس سانولی سلونی جوانی کو بیڑا دیا۔ چودھویں نے اسے لے کر ایک طرف رکھ دیا۔ اٹھی، دونوں پاؤں فرش پر مار کر گھنگھرؤں کی نشست دیکھی اور سماجیوں سے کہا

’’تم لوگ چلو اور لہرا بجانا شروع کرو۔ میں آئی۔ ‘‘

سماجیوں نے حاضرین کو فرشی سلام کیا اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ طبلہ سارنگی سے ملنے لگا، لہرا بجنا شروع ہوا ہی تھا کہ چودھویں، لال کمرے ہی سے ناچتی تھرکتی محفل میں آئی۔ کورنش بجا لا کر ایک چھناکے کے ساتھ ناچنے لگی۔ جمیل احمد نے ایک توڑے پر بے اختیار ہو کرکہا

’’بی چودھویں، کیا کیا ناچ کے انگوں میں بھاؤ لجاؤ بتا رہی ہو۔ ‘‘

چودہویں نے جو کہ ایک نیا توڑا لے رہی تھی، اسے ختم کرکے تسلیم بجا لاتے ہوئے کہا

’’حضور، آپ رئیس لوگ قدر دانی فرماتے ہیں ورنہ میں ناچنا کیا جانوں۔ ‘‘

سرور خاں بہت مسرور تھے، کہا

’’سچ تو یہ ہے، بی چودھویں تم ناچتی ہو تو معلوم ہوتا ہے پھل جھڑی پھوٹ رہی ہے۔ ‘‘

جمیل احمد سرور خاں سے مخاطب ہوئے

’’اماں گُل ریز نہیں کہتے۔ ‘‘

پھر انہوں نے غالبؔ کی طرف دیکھا

’’کیوں مرزا نوشہ۔ صحیح عرض کررہا ہوں نا؟‘‘

غالبؔ نے تھوڑے توقف کے بعد چودہویں کی طرف کنکھیوں سے دیکھا

’’میں تو نہ پھل جھڑی کہوں گا اور نہ گُل ریز۔ بلکہ یوں کہوں گا کہ معلوم ہوتا ہے مہتاب پھوٹ رہی ہے۔ ‘‘

جمیل احمد بولے

’’واہ واہ۔ کیوں نہ ہو۔ شاعر ہیں ناشاعر، چودھویں کا ناچ اور مہتاب، نہ پھل جھڑی نہ گل ریز۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ!‘‘

حشمت خاں نے اپنی مخصوص گرجدار آواز میں کہا

’’ایک تو یوں ان بی صاحبہ کا دماغ چوتھے آسمان پر ہے، آپ لوگ اور ساتویں آسمان پر پہنچا رہے ہیں‘‘

چودھویں ناچتے ہوئے ایک ادا سے حشمت خاں کو کہتی ہے،

’’جی ہاں آپ کو تو بس کیڑے ڈالنے آتے ہیں۔ ‘‘

حشمت خاں مسکراتا ہے اور اپنے دوستوں کی طرف دیکھتا ہے۔

’’اچھا حضرات سُنیے۔ چودھویں جس وقت ناچتی ہے، معلوم دیتا ہے پانی پر مچھلی تیر رہی ہے۔ ‘‘

پھر چودھویں سے مخاطب ہوتا ہے

’’لے اب خوش ہوئیں‘‘

چودھویں ناچنا بند کردیتی ہے اور ننھی سی ناک چڑھا کر کہتی ہے،

’’دماغ کہاں پہنچا ہے۔ سڑی بدبودار مچھلی۔ دُورپار۔ نوج میں کیا مچھلی ہوں‘‘

محفل میں فرمائشی قہقہے لگتے ہیں۔ حشمت خاں کو چودہویں کا جواب ناگوار معلوم ہوتا ہے۔ مگر چودھویں اس کے بگڑے ہوئے تیوروں کی کوئی پرواہ نہیں کرتی اور غالبؔ کو محبت کی نظر سے دیکھ کر ان کی یہ غزل بڑے جذبے کے ساتھ گانا شروع کرتی ہے یہ ہم جو ہجر میں دیوارو در کو دیکھتے ہیں کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں! وہ آئیں گھرمیں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی کم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں! چودھویں یہ غزل غالبؔ کی طرف رُخ کرکے گاتی ہے اور کبھی کبھی مسکرا دیتی ہے۔ غالبؔ بھی متبسم ہو جاتے ہیں۔ حشمت خاں جل بھن جاتا ہے اور چودھویں سے بڑے کڑے لہجے میں کہتا ہے

’’ارے ہٹاؤ، یہ غزلیں وزلیں، کوئی ٹھمری داد راگاؤ‘‘

چودھویں غزل گانا بند کردیتی ہے۔ مززا غالب کی طرف تھوڑی دیر ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی ہے اور یہ ٹھمری الاپنا شروع کرتی ہے ع پیا بن ناہیں چین حشمت خاں کے سارے منصوبے خاک میں ملے جارہے تھے۔ اپنی کرخت آواز میں جان محمد کو بُلاتا اور اس سے کہتا ہے

’’وہ میرا صندوقچہ لانا۔ ‘‘

جان محمد بڑے ادب سے دریافت کرتا ہے

’’کون سا صندوقچہ حضور؟‘‘

’’ارے وہی، جس میں کل میں نے تمہارے سامنے کچھ زیورات لا کے رکھے ہیں۔ ‘‘

گانا جاری رہتا ہے۔ اس دوران میں جان محمد صندوقچہ لا کر حشمت خاں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ وہ غالبؔ کو جو چودھویں کا گانا سننے میں محو ہے ایک نظر دیکھ کرمسکراتاہے۔ صندوقچہ کھول کر ایک جڑاؤ گلوبند نکال کر چودھویں سے مخاطب ہوتا ہے

’’چودھویں۔ ادھر دیکھو۔ یہ گُلوبند کس کا؟‘‘

چودہویں ایک ادا کے ساتھ جواب دیتی ہے

’’میرا‘‘

حشمت خاں، غالبؔ کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتا ہے اور صندوقچے سے جڑاؤ جھالے نکال کر چودھویں سے پوچھتا ہے،

’’اچھا یہ جھالے کس کے!‘‘

پھر وہی ادا، پر اب جو تصنع اختیار کررہی تھی

’’میرے!‘‘

حاضرین یہ تماشا دیکھ رہے تھے، جن میں مرزا غالبؔ بھی شامل تھے۔ سب حیران تھے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ حشمت خاں اب کی کڑے نکالتا ہے

’’چودھویں یہ کڑوں کی جوڑی کس کی؟‘‘

چودھویں کی ادا بالکل بناوٹ ہو گئی

’’میری!‘‘

اب حشمت خاں بڑی خود اعتمادی سے اس سے سوال کرتا ہے،

’’اچھا اب بتاؤ، چودھویں کس کی؟‘‘

چودھویں توقف کے بعد ذرا آنچل کی آڑ لے کر دیکھتی ہے

’’آپ کی‘‘

غالبؔ خاموش رہتے ہیں۔ لیکن حشمت خاں جو شاید چودھویں کے آنچل کی اوٹ کا جواب سمجھ نہیں سکا تھا، مرزا سے کہا

’’آپ بھی گواہ رہیے گا۔ ‘‘

غالبؔ نے ذرا تیکھے پن سے جواب دیا

’’سازشی مقدمے میں گواہی مجھ سے دلواتے ہو۔ ‘‘

’’تم نے نہیں سنا؟‘‘

مرزا غالبؔ محفل سے اٹھ کر جاتے ہوئے حشمت خاں سے کہتے ہیں،

’’کچھ دیکھا نہ کچھ سنا۔ اور دوسرے مجھی سے مقدمہ اور مجھی سے گواہی۔ غضب، اندھیر!‘‘

غالبؔ کے جانے کے بعد محفل درہم برہم ہو جاتی ہے۔ چودھویں سے حشمت خاں گانا جاری رکھنے کے لیے کہتا ہے۔ صرف حکم کی تعمیل کے لیے وہ گاتی ہے، مگر اکھڑے ہوئے سروں میں۔ حشمت خاں دلی طور پر محسوس کرتا ہے کہ وہ شکست خوردہ ہے۔ آج کا میدان غالبؔ مار گئے۔ دوسرے روز صبح غالبؔ کا بھیجا ہوا آدمی مداری چودھویں کے گھر پہنچتا ہے اور چودھویں سے ملتا ہے۔ وہ اس کو پہچانتی تھی، اس لیے بہت خوش ہوتی ہے اور اس سے پوچھتی ہے

’’کیوں میاں مردھے، کہاں سے آئے ہو؟‘‘

’’جی حبش خاں کے پھاٹک سے آیا ہوں۔ نواب مرزا اسد اللہ خاں صاحب نے بھیجا ہے۔ ‘‘

چودھویں کا دل دھڑکنے لگا

’’کیوں کیا بات ہے؟‘‘

’’جی نہیں، انہوں نے یہ توڑا بھیجا ہے‘‘

یہ کہہ کر مداری ایک توڑا چودھویں کو دیتا ہے، جسے وہ جلدی جلدی بڑے اشتیاق سے کھولتی ہے۔ اس میں سے زیورات نکلتے ہیں۔ مداری اس سے کہتا ہے

’’بی بی جی گن کے سنبھال لیجیے اور ایک بات جو نواب صاحب نے کہی ہے، وہ سُن لیجیے۔ ‘‘

’’کیا کہا؟‘‘

مداری تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد زبان کھولتا ہے۔

’’انہوں نے کہا تھا۔ اپنے رئیس جمعدار حشمت خاں سے کہنا کہ جن مقدموں کا فیصلہ روپیہ پیسہ چڑھا کربڑی آسانی سے اپنے حق میں ہو جائے، ان پر گواہوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ ‘‘

چودھویں گزشتہ رات کے واقعات کی روشنی میں مرزا نوشہ کی اس بات کو فوراً سمجھ جاتی ہے اور دانتوں سے اپنی مخروطی انگلیوں کے ناخن کاٹنا شروع کردیتی ہے اور سخت پریشان ہو کر کہتی ہے

’’وہی ہوا جو میں سمجھتی تھی۔ میاں مردھے، تم ذرا ٹھہرو، تو میں تم سے کچھ کہوں‘‘

مداری چند لمحات سوچتا ہے

’’لیکن بی بی جی نواب صاحب نے فرمایا تھا کہ دیکھو مداری، یہ توڑا دے آنا۔ واپس نہ لانا اور فوراً چلے آنا۔ ‘‘

چودھویں اور زیادہ مضطرب ہو جاتی ہے

’’ذرا دم بھر ٹھہرو۔ سنو، ان سے کہنا۔ میں کیوں کر۔ ہاں یہ کہنا کہ میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا۔ لیکن سنا تم نے۔ کہنا میں مجبوری سے کہہ گئی۔ نہیں نہیں مردھے بابا کہنا، ہاں کیا؟۔ بس یہی کہ میرا قصور کچھ نہیں‘‘

یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

’’لیکن سنا میاں مداری۔ تم اتنا ضرور کہنا کہ آپ خود تشریف لائیں، تو میں اپنے دل کا حال کہوں۔ اچھا تو یوں کہنا۔ زبانی عرض کروں گی۔ ہائے اور کیا کہوں۔ سنو میرا ہاتھ جوڑ کر سلام کہنا۔ ‘‘

مداری اچھا اچھا کہتا چلا جاتا ہے۔ لیکن چودھویں اسے آنسو بھری آنکھوں سے سیڑھیوں کے پاس ہی روک لیتی ہے۔

’’اے میاں مردھے۔ اے میاں مداری۔ کہنا میری جان کی قسم ضرور آئیے گا۔ کہنا میرا مردہ دیکھیے۔ چودھویں بدنصیب کو اپنے ہاتھ سے گاڑیئے جو نہ آیئے۔ دیکھو ضرور سب کچھ کہنا‘‘

مداری چلا جاتا ہے۔ وہ روتی روتی بیٹھک میں آتی ہے اور گاؤ تکیے پر گر کر آنسو بہانے لگتی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد جمعدار حشمت خاں آتا ہے اور معنی خیز نظروں سے اس کو دیکھتا ہے۔ چودہویں کواس کی آمد کا کچھ احساس نہیں ہوتا، اس لیے وہ غم و اندوہ کے ایک اتھاہ سمندر میں تھپیڑے کھا رہی تھی۔ حشمت خاں اس کے پاس ہی مسند پر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر بھی چودھویں کو اس کی موجودگی کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ بے خودی کے عالم میں وہ اُس کی طرف بالکل خالی نظروں سے دیکھتی ہے اور بڑبڑاتی ہے

’’جانے وہ ان سے سب باتیں کہے گا بھی یا نہیں‘‘

حشمت خاں جو اس کے پاس ہی بیٹھا تھا، کرخت آواز میں بولا

’’میری جان مجھ سے کہی ہوتیں تو ایک ایک تمہارے مرزا نوشہ تک پہنچا دیتا۔ ‘‘

چودھویں چونک پڑتی ہے، جیسے اس کو خوابوں کی دنیا میں کسی نے ایک دم جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ اس کی آنسو بھری آنکھیں دُھندلی ہورہی تھیں۔ اسے صرف سیاہ نوکیلی مونچھیں دکھائی دیں، جن کا ایک ایک بال اس کے دل میں تکلوں کی طرح چُبھتا گیا۔ آخر اسے کوئی ہوش نہ رہا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ بھی ایک چلتر ہے جو عام طور پر طوائفوں اور ڈومنیوں سے منسوب ہے۔ وہ زور زور سے قہقہے لگاتا رہا اور ڈومنی بے ہوشی کے عالم میں مرزا نوشہ کی خاطر مدارت میں فوراً مشغول ہو گئی تھی۔ اس لیے کہ وہ اس کے بلانے پر آگئے تھے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال
  • کراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا!
  • ہڈیاں اور پھول
  • ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی ورزش
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تم بھی آؤ نا درختوں کی گھنی چھاؤں میں
پچھلی پوسٹ
میرا نام رادھا ہے

متعلقہ پوسٹس

بابا کی گڑیا

جنوری 29, 2021

آلو کھا کر آنسو جھیل دیکھیے

اکتوبر 9, 2022

مہر و وفا کا پیکر: کریم اعوان

مئی 5, 2023

بائی کے ماتم دار

جون 15, 2020

سینما کا عشق

دسمبر 12, 2019

چھوٹا منہ بڑی بات

اکتوبر 3, 2021

مس چڑیا کی کہانی

دسمبر 29, 2019

سرِ شام دلربا سرگوشی

دسمبر 12, 2024

سوشل میڈیا کے فائدے اور نقصانات

مارچ 28, 2022

زندگی میں کام آنے والی باتیں

ستمبر 19, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سلطان مظفر کا واقعہ نویس

جون 15, 2020

والد – جنت کا دروازہ

جون 29, 2020

دھیان بٹائے رکھنا ہے!

اگست 26, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں