733
تم بھی آؤ نا درختوں کی گھنی چھاؤں میں
ریل تو روز ہی رکتی ہے مرے گاؤں میں
جب بھی کرتی ہوں ترے ساتھ میں دل کی باتیں
پھول کھلتے ہیں مری روح کے صحراؤں میں
تجھ کو آتے ہیں نہ آنے کے بہانے ورنہ
کوئی زنجیر نہیں یار ترے پاؤں میں
دل کی باتوں کو زباں دیتی ہیں آنکھیں اکثر
اور پھر ہوتی ہے ہر بات شناساؤں میں
آنکھ سوئے گی تری دید کی خواہش لے کر
خواب جاگیں گے ترے وصل کی دنیاؤں میں
دل کی دنیا میں چلے آتے ہیں خوشبو بن کر
پیار کو قید نہیں کرتے جو ریکھاؤں میں
آج پھر ٹوٹ کے برسی ہیں گھٹائیں ہر سو
آج پھر شور سا برپا ہے تمناؤں میں
دور تک راج ہوا کرتا ہے خاموشی کا
جب بھی طوفان اٹھا کرتے ہیں دریاؤں میں
منزہ سیّد
