15
لہو اشکوں میں مِلنے دو، انہیں خُونناب ہونے دو
ہماری چشمِ گریاں کو ذرا تالاب ہونے دو
ابھی تک ذہن و دل پر جس کی یادوں کا بسیرا ہے
اُسے تو بھول جانے دو، اُسے تو خواب ہونے دو
نہ کاٹو پھول ندیا کے کناروں پر اُگے ہیں جو
مِرے چشموں کے پانی کو ذرا *مشکاب* ہونے دو
ابھی تو سُرمئی سی شام اُتری ہے دریچوں میں
ستارہ جیب میں رکھو، اسے مہتاب ہونے دو
ابھی سے خوابِ وصلِ یار دکھلاو نہیں عُظمی
جسے ہے فخرِ ضبطِ غم، اسے بیتاب ہونے دو
عُظمی جٙون

1 تبصرہ
بہت اعلیٰ عظمی بھائی 🌹