113
سائے کی خاموشی صرف زمین سہتی ہے
کھوکھلا پیڑ نہیں یا کھوکھلی ہنسی نہیں
اور پھر انجان اپنی انجانی ہنسی میں ہنسا
قہقہے کا پتھر سنگریزوں میں تقسیم ہو گیا
سائے کی خاموشی
اور پھول نہیں سہتے
تم
سمندر کو لہروں میں ترتیب مت دو
کہ تم خود اپنی ترتیب نہیں جانتے
تم
زمین پہ چلنا کیا جانو
کہ بت کے دل میں تمہیں دھڑکنا نہیں آتا
سارا شگفتہ
