109
یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
شاید آغاز بے وفائی ہے
تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
ساری دنیا سے آشنائی ہے
کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
عشق ہی عشق سے رہائی ہے
شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
کوئی تقریب رو نمائی ہے
اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
اک سہارا شکستہ پائی ہے
جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
موت رو رو کے مسکرائی ہے
جمیل الدین عالی
