107
میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں
کھلا دریچہ در آئی صبا کہا کہ نہیں
ہوا کا رخ تو اسی بام و در کی جانب ہے
پہنچ رہی ہے وہاں تک مری صدا کہ نہیں
زباں پہ کچھ نہ سہی سن کے میرا حال تباہ
ترے ضمیر میں ابھری کوئی دعا کہ نہیں
لبوں پہ آج سر بزم آ گئی تھی بات
مگر وہ تیری نگاہوں کی التجا کہ نہیں
خود اپنا حال سناتے حجاب آتا ہے
ہے بزم میں کوئی دیرینہ آشنا کہ نہیں
ابھی کچھ اس سے بھی نازک مقام آئیں گے
کروں میں پھر سے کہانی کی ابتدا کہ نہیں
پڑھو نہ عشق میں خورشیدؔ ہم نہ کہتے تھے
تمہیں بتاؤ کہ جی کا زیاں ہوا کہ نہیں
خورشید رضوی
