342
خواب زدہ ویرانوں تک
پہنچی نیند ٹھکانوں تک
آوازوں کے دریا میں
غرق ہوئے ہم شانوں تک
باغ، اثاثہ ہے اپنا
وہ بھی زرد زمانوں تک
بنچ پہ پھیلی خاموشی
پہنچی پیڑ کے کانوں تک
عشق عبادت کرتے لوگ
جاگیں روز اذانوں تک
کرنیں ملنے آتی ہیں
گھر کے روشن دانوں تک
زرد اداسی چھائی ہے
کھیتوں سے کھلیانوں تک
مبشّر سعید
