100
حق کا پرچار کیے گزرے پیمبر اکثر
دل جو بنجر تھے رہے دنیا میں بنجر اکثر
جو مِرے سامنے پڑھتے ہیں قصیدے پیہم
میرے جانے پہ اُٹھاتے ہیں وہ خنجر اکثر
رت خزاؤں کی یہ ہوتی تھی بہاروں جیسی
اب گزر جاتا ہے چپ چاپ دسمبر اکثر
ایک مدت سے مِری سَمت تو آیا نہ گیا
خالی رہنے سے زمیں ہوتی ہے بنجر اکثر
تو مِری ایک ملاقات سے قائل مت ہو
دور سے گہرا نہیں لگتا سمندر اکثر
شعیب شوبی
