568
رات سی نیند ہے مہتاب اتارا جائے
اے خدا مجھ میں زر خواب اتارا جائے
کیا ضروری ہے کہ ناؤ کو بچانے کے لیے
ہر مسافر تہِ گرداب اتارا جائے
روز اترتا ہے سمندر میں سلگتا سورج
کبھی صحرا میں بھی تالاب اتارا جائے
سو چراغوں کے جلانے سے کہیں اچھا ہے
اک ستارہ سرِ محراب اتارا جائے
پتھروں میں بھی کئی پیچ پڑے ہیں شاہدؔ
ان پہ بھی موسم شاداب اتارا جائے
شاہد ذکی
