105
جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے
سفر ہمارے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے
میں سر بہ سجدہ سکوں میں نہیں سفر میں ہوں
جبیں پہ داغ نہیں آبلہ بنا ہوا ہے
میں کیا کروں مرا گوشہ نشین ہونا بھی
پڑوسیوں کے لیے واقعہ بنا ہوا ہے
مگر میں عشق میں پرہیز سے بندھا ہوا ہوں
ترا وجود تو خوش ذائقہ بنا ہوا ہے
بریدہ شاخیں ہیں یا شمع ہائے گل شدہ ہیں
خمیدہ پیڑ ہے یا مقبرہ بنا ہوا ہے
مرے گنہ در و دیوار سے جھلک رہے ہیں
مکان میرے لیے آئینہ بنا ہوا ہے
شعوری کوششیں منظر بگاڑ دیتی ہیں
وہی بھلا ہے جو بے ساختہ بنا ہوا ہے
کسی دعا کے لیے ہاتھ اٹھے ہوئے شاہدؔ
کسی دیے کے لیے طاقچہ بنا ہوا ہے
شاہد ذکی
