104
کچھ اس لیے مجھے لٹنے کا ڈر زیادہ ہے
ذرا سی ہے مری دیوار در زیادہ ہے
یہ راستہ تو مرا ساتھ دے نہیں سکتا
میں جانتا ہوں کہ میرا سفر زیادہ ہے
عجب علاج کیا ہے مرے مسیحا نے
مرے مرض سے دوا کا اثر زیادہ ہے
میں بولتا تھا کہ مجھ کو نہیں تھا کچھ معلوم
میں چپ ہوا ہوں کہ مجھ کو خبر زیادہ ہے
میں دیکھنے کی حدوں سے نکل کے دیکھتا ہوں
مری نگاہ سے میری نظر زیادہ ہے
میں رکھ سکا نہ توازن اڑان میں قائم
مرے پروں میں کہیں ایک پر زیادہ ہے
خدا کرے کہ ہمیشہ مجھے گمان رہے
کہ میرے پاس ضرورت سے زر زیادہ ہے
مرے وطن کا یہی مسئلہ رہا عاصمؔ
یہاں دماغ ہے کم اور سر زیادہ ہے
ڈاکٹر عاصم واسطی
