103
آزر رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں
پیکر دکھائی دیتے ہیں مجھ کو چٹان میں
سب اپنے اپنے طاق میں تھرا کے رہ گئے
کچھ تو کہا ہوا نے چراغوں کے کان میں
میں اپنی جستجو میں یہاں تک پہنچ گیا
اب آئینہ ہی رہ گیا ہے درمیان میں
نکلی نہیں ہے دل سے مرے بد دعا کبھی
رکھے خدا عدو کو بھی اپنی امان میں
منظر بھٹک رہے تھے در و بام کے قریب
میں سو رہا تھا خواب کے پچھلے مکان میں
آزر اسی کو لوگ نہ کہتے ہوں آفتاب
اک داغ سا چمکتا ہے جو آسمان میں
دلاور علی آزر
