106
اپنے آپ سے ملنے اک دن میں گھر سے نکلا
خیالوں میں اپنے گم ہوکر میں گھر سے نکلا
گھوم پھر کر بالآخر پہنچا میں اپنے ہی گھر
دستک دی دروازے پر تو میں ہی اندر سے نکلا
دل بھر آیا خوب رویا میں اپنے آپ سے مل کر
دل کا یہ غبار نہ جانے یارو کدھر سے نکلا
مل کر اپنے آپ سے مجھے کچھ ایسا لگا یارو
مل گیا وہ خزانہ جو ہو کسی سمندر سے نکلا
پاس بٹھایا تسلی دی اور کہا کہ اب بھلادو
ہر اس شخص کو جو تمہاری رہگزر سے نکلا
اپنے پرائے کی پہچان کتنی مشکل ہے یہاں پر
دل میں رکھا جسے وہی آستین کے اندر سے نکلا
رشتے ناطے دوستی یاری سب نبھا کر دیکھ لیئے
محبت و الفت کا یہ دعویٰ بس اگر مگر سے نکلا
یوں مل لیا کرو اپنے آپ سے تم بھی کبھی یوسف
محسوس ہوگا جیسے کسی مشکل ڈگر سے نکلا
محمد یوسف میاں برکاتی
