103
لپیٹوں گا میں آنکھیں اور صورت کھینچ لوں گا
ٹٹولو خود کو میں تم میں کہیں موجود ہوں گا
تمہارا جسم پُتلا اب بُرادا ہو رہا ہے
نئی اک طرز کا من موہنا تشکیل دوں گا
مری آواز کی تو گونج ہے کم فاصلے کی
بلاؤں گا میں خود کو خود توجہ سے سنوں گا
پیے ہیں اس نے سگرٹ بے تحاشہ، بے سلیقہ
ارادہ ہے کہ میں سب خیر خواہوں سے کہوں گا
کوئی میرا شناسا تو نہیں جو دے ضمانت
میں ابنے آپ سے الجھا اگر تو کیا کروں گا
مرے رشتوں کا ریشم کیوں الجھتا جا رہا ہے
کہاں تک اس طرح میں دردِ بے مہری سہوں گا
رشید اس بے زبانی نے نہیں چھوڑا کہیں کا
رہا ہوں اس طرح خاموش کہ جیسے ہو گُونگا
رشید حسرت، کوئٹہ
