103
دریچے درد کے جب وا ہوئے پھسلتی گئی
اداس رات کئی زاویوں میں ڈھلتی گئی
اسے پتہ ہی نہ تھا راہ قتل گاہ کی ہے
وہ بے نیاز مگر راستے پہ چلتی گئی
دیے ہواؤں میں میں نے جلا کے رکھ چھوڑے
مگر یہ بات مرے دشمنوں کو کھلتی گئی
چہار سو جو حرارت حصار تانے رہی
ڈلی تھی برف کی یہ زندگی پگھلتی گئی
نظر کے وار سے توبہ ہے جیسے ناگن ہو
کہ جو بھی سامنے آتا گیا نگلتی گئی
وہ گفتگو میں تھے مصروف اور بات مری
ہزار کوششوں کے باوجود ٹلتی گئی
رشیدؔ فکر تری مجھ کو کھائے جاتی ہے
لگا ہے روگ یہ کیسا؟ جوانی گلتی گئی
رشید حسرتؔ، مِٹھڑی
