29
دریچے درد کے جب وا ہوئے پھسلتی گئی
اداس رات کئی زاویوں میں ڈھلتی گئی
اسے پتہ ہی نہ تھا راہ قتل گاہ کی ہے
وہ بے نیاز مگر راستے پہ چلتی گئی
دیے ہواؤں میں میں نے جلا کے رکھ چھوڑے
مگر یہ بات مرے دشمنوں کو کھلتی گئی
چہار سو جو حرارت حصار تانے رہی
ڈلی تھی برف کی یہ زندگی پگھلتی گئی
نظر کے وار سے توبہ ہے جیسے ناگن ہو
کہ جو بھی سامنے آتا گیا نگلتی گئی
وہ گفتگو میں تھے مصروف اور بات مری
ہزار کوششوں کے باوجود ٹلتی گئی
رشیدؔ فکر تری مجھ کو کھائے جاتی ہے
لگا ہے روگ یہ کیسا؟ جوانی گلتی گئی
رشید حسرتؔ، مِٹھڑی
