484
کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے
جو لمحہ اس ذات کے اندر رک جاتا ہے
سورج دن بھر زہر اگلتا رہتا ہے
چاند کا زعم بھی رات کے اندر رک جاتا ہے
پہلے سانس جما دیتا ہے ہونٹوں پر
پھر وہ اپنی گھات کے اندر رک جاتا ہے
نکل نہیں سکتا دھرتی کا بنجر پن
جو قطرہ برسات کے اندر رک جاتا ہے
حرف کا دیپ ہوا سے کیسے الجھے گا
یہ نقطہ ہر بات کے اندر رک جاتا ہے
ہجر کا موسم خاموشی اور رات کا ڈر
یادوں کی بارات کے اندر رک جاتا ہے
