515
یوں تو شیرازۂ جاں کر کے بہم اٹھتے ہیں
بیٹھنے لگتا ہے دل جوں ہی قدم اٹھتے ہیں
ہم تو اس رزم گہ وقت میں رہتے ہیں جہاں
ہاتھ کٹ جائیں تو دانتوں سے علم اٹھتے ہیں
سہل انگار طبیعت کا برا ہو جس سے
ناز اٹھتے ہیں ترے اور نہ ستم اٹھتے ہیں
کوئی روندے تو اٹھاتے ہیں نگاہیں اپنی
ورنہ مٹی کی طرح راہ سے کم اٹھتے ہیں
نیند جاتی ہی نہیں عرض ہنر سے آگے
دفتر غم ہی سدا کر کے رقم اٹھتے ہیں
دن کی آغوش رضاعت سے نکل کر تابشؔ
رات کی رات کف خاک سے ہم اٹھتے ہیں
