740
شام کے سائے جلتے رہیں گے
یوں ہی سورج پگھلتے رہیں گے
دل میں بس اک اُداسی رہے گی
یوں تو موسم بدلتے رہیں گے
کر کے روشن ترے راستوں کو
ہم اندھیروں میں چلتے رہیں گے
عشق کی آگ ایسی لگی ہے
موم بن کر پگھلتے رہیں گے
وقت جب بھی تراشے گا پتھر
نقش تیرے نکلتے رہیں گے
درد سینے میں ہے شاذ جب تک
زخم لفظوں میں ڈھلتے رہیں گے
شجاع شاذ
