122
یہ دکھاوے کی ندامت مسترد کرتی ہوں میں
آپ کی جھوٹی محبت مسترد کرتی ہوں میں
عمر بھر کا ساتھ دینا ہے اگر تو دیجیے
چار دن کی یہ رفاقت ،مسترد کرتی ہوں میں
یہ تو میں ہوں ہی نہیں یہ آپ ہی کا عکس ہے
آئینے میں اپنی صورت مسترد کرتی ہوں میں
جو ملے گردن جھکا کر شاہ کے دربار میں
ایسا منصب ،ایسی عزت مسترد کرتی ہوں میں
سیدہ صائمہ کامران
