خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اقبالی منظوماتاِبلیس کی مجلسِ شُوریٰ
اقبالی منظوماتاقبالیاتشعر و شاعری

اِبلیس کی مجلسِ شُوریٰ

علامہ اقبال کی ایک نظم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 12, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 12, 2020 0 تبصرے 676 مناظر
677

اِبلیس کی مجلسِ شُوریٰ
۱۹۳۶ء
یہ عناصِر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمنّاؤں کا خوں!
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھّا تھا جہانِ کاف و نوں
میں نے دِکھلایا فرنگی کو مُلوکیّت کا خواب
مَیں نے توڑا مسجد و دَیر و کلیِسا کا فسوں
مَیں نے ناداروں کو سِکھلایا سبق تقدیر کا
مَیں نے مُنعِم کو دیا سرمایہ داری کا جُنوں
کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو اِبلیس کا سوزِ دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اُس نخلِ کُہن کو سرنِگُوں!
پہلا مُشیر
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ اِبلیسی نظام
پُختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوام
ہے اَزل سے ان غریبوں کے مقدّر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام
آرزو اوّل تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام
یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و مُلّا مُلوکیّت کے بندے ہیں تمام
طبعِ مشرق کے لیے موزُوں یہی افیون تھی
ورنہ ’قوّالی‘ سے کچھ کم تر نہیں ’علمِ کلام‘!
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟
’ہے جہاد اس دَور میں مردِ مسلماںپر حرام!
دُوسرا مُشیر
خیر ہے سُلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تُو جہاں کے تازہ فِتنوں سے نہیں ہے با خبر!
پہلا مُشیر
ہُوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیّت کا اک پردہ ہو، کیا اُس سے خطر!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہُوری لباس
جب ذرا آدم ہُوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبارِ شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجودِ مِیر و سُلطاں پر نہیں ہے منحصَر
مجلسِ ملّت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سُلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!
تیسرا مُشیر
روحِ سُلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اُس یہُودی کی شرارت کا جواب؟
وہ کلیمِ بے تجلّی، وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ حساب!
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!
چوتھا مُشیر
توڑ اس کا رومۃُالکُبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آلِ سیزر کو دِکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب
کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لِپٹا ہُوا
’گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب‘
تیسرا مُشیر
مَیں تو اُس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کِیا یوں بے حجاب
پانچواں مُشیر
( اِبلیس کو مخاطَب کرکے)
اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم اُستوار!
تُو نے جب چاہا، کِیا ہر پردگی کو آشکار
آبِ و گِل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنّت تری تعلیم سے دانائے کار
تجھ سے بڑھ کر فطرتِ آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابَد تک سرنِگون و شرمسار
گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحِر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار
وہ یہودی فِتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بُروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جُنوں سے تار تار
زاغِ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہین و چرغ
کتنی سُرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگار
چھا گئی آشُفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مُشتِ غبار
فِتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جُوئبار
میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار
اِبلیس
( اپنے مُشیروں سے)
ہے مرے دستِ تصرّف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمانِ تُو بتُو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
مَیں نے جب گرما دیا اقوامِ یورپ کا لہُو
کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُو
کارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو!
دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشُفتہ مُو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمّت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضُو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایّام ہے
مزدکِیّت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!

جانتا ہُوں میں یہ اُمّت حاملِ قُرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
جانتا ہُوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذَر! آئینِ پیغمبر سے سَو بار الحذَر
حافظِ نامُوسِ زن، مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کے لیے
نے کوئی فُغفور و خاقاں، نے فقیرِ رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
مُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!
چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئِیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں
ہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہے
یہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اُس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مر گیا یا زندۂ جاوید ہے
ہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جُدا یا عینِ ذات؟
آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے
یا مجدّد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟
ہیں کلامُ اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
اُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دَور میں
یہ الٰہیات کے ترشے ہُوئے لات و منات؟
تم اسے بیگانہ رکھّو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوّف اس کے حق میں خوب تر
جو چھُپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفَس ڈرتا ہُوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات
مست رکھّو ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

علامہ محمد اقبال

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سینوں میں تپش ہے کبھی شورش ہے سروں میں
  • یہ تو آگ ہے
  • دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر
  • چیں بہ جبیں ہو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جہاد
پچھلی پوسٹ
سودا تھا بلائے جوش پر رات

متعلقہ پوسٹس

تمہارا ہجر منایا تو میں اکیلا تھا

دسمبر 15, 2024

ہر قدم حادثے ہر نفس تلخیاں

مارچ 11, 2025

ایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفت

جون 24, 2020

یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا

جون 26, 2020

سسی کی سہیلی

مئی 22, 2020

خدانے اپنے شواہد پہ سوچنے دیا تو

جون 8, 2020

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے

دسمبر 16, 2021

نجات

جنوری 13, 2020

ماٸے نی

جون 28, 2020

المیہ 

فروری 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خانہ آبادی

جون 8, 2020

میں نہ رانجھا نہ مجھے ہیر...

ستمبر 20, 2020

شوق ہر رنگ رقیب سر و...

ستمبر 20, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں