368
یہ میز یہ کتاب یہ دیوار اور میں
کھڑکی میں زرد پھولوں کا انبار اور میں
ہر شام اس خیال سے ہوتا ہے جی اداس
پنچھی تو جا رہے ہیں افق پار اور میں
اک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے
اک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں
سرکار ہر درخت سے بنتے نہیں ہیں تخت
قربان آپ پر مرے اوزار اور میں
لے کر تو آ گیا ہوں مرے پاس جو بھی تھا
اب سوچتا ہوں تیرا خریدار اور میں
خوشبو ہے اک فضاؤں میں پھیلی ہوئی جسے
پہچانتے ہیں صرف سگ یار اور میں
کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے نکلا تھا آفتاب
دنیا تو مل گئی سر بازار اور میں
ذوالفقار عادل
