324
سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ
دروازو کچھ وقت گزارو دیوارو چپ ہو جاؤ
کس کشتی کی عمر ہے کتنی ملاحوں سے پوچھنے دو
تم سے بھی پوچھیں گے اک دن دریاؤ چپ ہو جاؤ
دیکھ لیا نا آخر مٹی مٹی میں مل جاتی ہے
خاموشی سے اپنا اپنا حصہ لو چپ ہو جاؤ
اس ویران سرا کی مالک ایک پرانی خاموشی
آوازیں دیتی رہتی ہے مہمانو! چپ ہو جاؤ
ایسا لگتا ہے ہم اپنی منزل پر آ پہنچے ہیں
دور کہیں یہ رونے کی آواز سنو چپ ہو جاؤ
خود کو ثابت کرنے سے بھی بڑھ جاتی ہے تنہائی
کون سی گرہیں کھول رہے ہو سحر گرو چپ ہو جاؤ
پیڑ پرانا ہو جاتا ہے نئے پرندے آنے سے
بات ادھوری ہی رہتی ہے کچھ بھی کہو چپ ہو جاؤ
ذوالفقار عادل
