332
کمی ہے کون سی گھر میں دکھانے لگ گئے ہیں
چراغ اور اندھیرا بڑھانے لگ گئے ہیں
یہ اعتماد بھی میرا دیا ہوا ہے تجھے
جو میرے مشورے بے کار جانے لگ گئے ہیں
میں اتنا وعدہ فراموش بھی نہیں ہوں کہ آپ
مرے لباس پہ گرہیں لگانے لگ گئے ہیں
وہ پہلے تنہا خزانے کے خواب دیکھتا تھا
اب اپنے ہاتھ بھی نقشے پرانے لگ گئے ہیں
فضا بدل گئی اندر سے ہم پرندوں کی
جو بول تک نہیں سکتے تھے گانے لگ گئے ہیں
کہیں ہمارا تلاطم تھمے تو فیصلہ ہو
ہم اپنی موج میں کیا کیا بہانے لگ گئے ہیں
نہیں بعید کہ جنگل میں شام پڑ جائے
ہم ایک پیڑ کو رستہ بتانے لگ گئے ہیں
اظہر فراغ
