104
ہر قدم پر جو اتنا روتے ہو
کس تمنا کا بوجھ ڈھوتے ہو
ہر کسی سے گریز کیا مطلب
آج کل کیوں ہوا میں ہوتے ہو
اس کا مطلب ہے دیکھ لی دنیا
بات کرنے سے پہلے روتے ہو
چاند پر جا بسو گے کیا تم سب
نفرتیں اس قدر جو بوتے ہو
یہ خدائی صفت بھی ہے تم میں
دور رہ کر قریب ہوتے ہو
تم اذیت پسند ہو خالدؔ
اپنے اشکوں سے زخم دھوتے ہو
خالد ندیم شانی
