105
اسی نے بوئے شکوک دل میں اسی چنبیلی کا نام دکھ ہے
تمہارے پہلو سے لگ کے بیٹھی ہوئی سہیلی کا نام دکھ ہے
وہی نا جس کی مکین لڑکی نے تیری بستی میں عشق بویا
مجھے بھی درشن کراؤ اس کے کہ جس حویلی کا نام دکھ ہے
تم ان لکیروں میں اک خوشی بھی تلاش کر لو تو معجزہ ہے
کہ میں تو بچپن سے جانتا ہوں مری ہتھیلی کا نام دکھ ہے
ہر ایک رشتہ ہر ایک جذبہ وفا محبت خلوص سب کچھ
میں اور کیا کیا بتاؤں حتٰی کہ یار بیلی کا نام دکھ ہے
خالد ندیم شانی
