302
بجھانے میں ہواؤں کی شرارت کم نہیں ہوتی
مگر جلتے ہوئے دیپک کی شدت کم نہیں ہوتی
کوئی جا کے بتا دے ان ذرا نادان لوگو کو
لگانے سے کبھی پہرے محبت کم نہیں ہوتی
نشہ ایسا چڑھا الفت کا تیری مجھ پہ اے ہمدم
اگر میں چاہ لوں پھر بھی محبت کم نہیں ہوتی
میں سلجھاتی ہوں اک مشکل تو دوجی سامنے آئے
میری اس زندگی سے کیوں مصیبت کم نہیں ہوتی
جدھر دیکھوں وہیں چرچا ہے مندر اور مسجد کا
جہاں سے سوچتی ہوں کیوں جہالت کم نہیں ہوتی
یہی میں پرشن کرتی ہوں اکیلے بیٹھ کر جیوتیؔ
سبب کیا ہے زمانہ سے یے نفرت کم نہیں ہوتی
جیوتی آزاد کھتری
