371
ٹکڑا اک نظم کا
دن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہا
لب پہ آیا تو زباں کٹنے لگی
دانت سے پکڑا تو لب چھلنے لگے
نہ تو پھینکا ہی گیا منہ سے، نہ نگلا ہی گیا
کانچ کا ٹکڑا اٹک جائے حلق میں جیسے
ٹکڑا وہ نظم کا سانسوں میں سرکتا ہی رہا
گلزار
ٹکڑا اک نظم کا
دن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہا
لب پہ آیا تو زباں کٹنے لگی
دانت سے پکڑا تو لب چھلنے لگے
نہ تو پھینکا ہی گیا منہ سے، نہ نگلا ہی گیا
کانچ کا ٹکڑا اٹک جائے حلق میں جیسے
ٹکڑا وہ نظم کا سانسوں میں سرکتا ہی رہا
گلزار