خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسیانے، غلام اور بندوقچی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

سیانے، غلام اور بندوقچی

ایک کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020 0 تبصرے 329 مناظر
330

"سیانے، غلام اور بندوقچی”

غلام قومیں اس وقت تک غلام رہتی ہیں جب تک ‘سیانے’ ان کے درمیان موجود رہیں۔ یہ سیانے حاکم و محکوم کے درمیان توازن کو قائم رکھنے کیلئے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں جسکے عوض حاکم انہیں بڑے بڑے عہدوں، جاگیروں اور مراعات سے نوازتا ہے جبکہ محکوم انکو قادرِ مطلق کا نمائندہ اور نجات دہندہ جان کر حسبِ توفیق نذرانے اور تحفے تحائف دیکر خدمت گزار رہنا سعادت جانتے ہیں، اسطرح غالب و مغلوب کی مسابقت میں اصل مآل یہی سیانے بناتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے ہندوستان بالعموم جبکہ پاکستان بالخصوص ان سیانوں کیلئے جنت مقام کا درجہ رکھتا ہے۔ جس اعتماد سے یہ اس خطہ ارضی میں بڑھے اور پھلے پھولے ہیں وہ اپنے اندر ایک تاریخی معجزہ ہے کیونکہ بدنیتی پر مبنی اتحاد جلد ہی ایکدوسرے کی جڑیں کاٹنے لگتا ہے مگر یہ جس تمکنت سے تہترویں برس میں داخل ہوا ہے وہ حیران کن ہے۔ اس اتحادِ باہمی نے محمد علی جناح سے لیکر فاطمہ جناح اور ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بینظیر بھٹو تک سب کا بہیمانہ قتل کیا لیکن مطالعہ پاکستان سے لیکر سرکاری و نجی نشریاتی ادارے اسی کو حادی و مُنجی ثابت کرنے میں مشغول ہیں۔

فرنگیوں نے ایک منظم فوج اور سیانا برگیڈ کے تعاون سے 200 سال اس خطے پر حکومت کی جو 15 اگست 1947، انکے کاغذی انخلاء کے بعد اُنکے انہی دو انمول رتنوں نے سابقہ آجر کی تعلیمات پر اتحادِ منفعت کر لیا اور آجدن تک حکومتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں ساجھی دار بن کے مملکت کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ دونوں نے اس کارِ خیر میں اپنا اپنا کردار آپس اندر یوں بانٹ رکھا ہیکہ بدماشیہ اسلحے، خلائی مخلوق اور نظریاتی و علاقائی سرحدوں کی نگہبانی کی آڑ میں ہر ذی روح کو یرغمال بنائے ہوئے ہے جبکہ اسکا سہولتکار سیانا ماورائے عدالت اغوا، قتل و غارت گری کیلئے جواز گھڑنے سے لیکر سیاسی اشرافیہ میں گھُس کر انکے راز پانے اور موقع آنے پر سیاسی قلابازی لگا کر بندوقچی(بدماشیہ) اتحاد کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر معمور ہے۔

ان سیانوں کی تین اقسام ہیں۔ اول پرانے جاگیردار، سرمایہ دار جو انگریز دور اور باپ دادا سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ دوم جرنیلوں اور 1947 کے بعد ابھرنے والے نئے سرمایہ داروں کے بچے جو اولاذکر میں شادی بیاہ کر کے شاملِ واجہ ہو گئے ہیں اور سوئم وہ کہ جو نہ جاگیر دار ہیں نہ سرمایادار مگر وہ بدماشیہ اتحاد کے نمائندہ بن کر اوپر اٹھنا چاہتے ہیں۔

جونہی ملک میں کوئی انقلابی آواز اُٹھتی ہے جو بدماشیہ کےمفادات پر ضرب لگائے تو بندوقچی اسے بھارتی، ایرانی، افغانی، صیہونی ایجنٹ یا پھر غدار کہہ کر دبانے کی کوشش کرتی ہے جس میں ناکامی یا عوامی ردِ عمل آنے پر ہر دم ہر جگہ حاضر و ناظر سیانوں کی فوجِ ریاکار کو بیچارے انقلابی کی صفوں میں گھسا دیا جاتا ہے جو ایکطرف تو بدماشیہ کے آنکھ اور کان بن کر انکے لیے مخبریاں کرتے ہیں دوسرا انقلابی نظریات کا سوانگ رچاء کر فیصلہ کُن عہدوں کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ اسکا عملی مظاہرہ پاکستانیوں نے تقریباً ہر الیکشن میں دیکھا ہے کیسے یہ سیانے بدماشیہ کے اشارے پر وفاداریاں تبدیل کر کے نئی جگہ سما جاتے ہیں۔ نہ انکا کوئی نظریہ ہے ناں ہی انہیں عہدوں وزارتوں کی کمی آتی ہے۔ جنرل ٹکا خان کے کہنے پر حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد روکنا اور فاروق لغاری جیسے بندے کیلئے پنجاب کو نظر انداز کر دینا پیپلز پارٹی کی تاریخ کی فاش ترین غلطیاں ہیں جو انہی سیانوں کو Oblige کرنے کے چکر میں ہم سے سرزد ہوئیں۔ ہوا یہ کہ 1988 الیکشنز پنجاب میں واضع برتری کسی جماعت کو نہیں ملی اور سردار دریشک وغیرہ کی قیادت میں 27 آزاد ممبران پارلیمنٹ کی حمائیت حکومت سازی کیلئے لازم و ملزوم ٹھہری۔ انکی اکثریت پیپلز پارٹی کی ہمدرد تھی اور انہوں نے ذوالفقار کھوسہ اور سردار دریشک کی سربراہی میں محترمہ سے ملاقات کی۔ محترمہ لغاری کو وزیراعلی دیکھنا چاہتی تھیں جس پر انہوں نے اعتراض کیا اور آزاد ممبران میں سے کسی کا انتخاب کرنے کی صلاح دی جسے بی بی نے رد کر دیا۔ پھر انہوں نے فاروق لغاری کے علاوہ کسی دیگر کو وزیراعلی بنانے پر پیپلز پارٹی میں شامل ہوکر پنجاب حکومت بنانے کی آفر کی لیکن محترمہ لغاری کے علاوہ کسی نام پر آمادہ نہ ہوئیں۔ نتیجتاً یہ آزاد ممبران جونیجو لیگ میں چلے گئے جس سے نواز شریف وزیراعلی پنجاب بن گیا۔ بی بی نے لغاری کی ایم پی اے کی سیٹ چھڑوائی اور اسے وفاقی وزیر لگا دیا۔ دوسرے دور میں بی بی صاحبہ نے اسکو صدرِ پاکستان منتخب کرایا جو بعد ازاں یہی خائین مرتضی بھٹو کے قتل اور پیپلز پارٹی حکومت کو گھر بھیجنے میں بدماشیہ کا آلہ کار بن گیا۔

آصف زرداری دور میں اقوامِ متحدہ نے بینظیر قتل کیس کی اقوامِ متحدہ سے انکوائری کرائی۔ خاندانی سیانے شاہ محمود قریشی اس وقت وزیر خارجہ تھے جو انکوائری رپورٹ وزارتِ خارجہ کو موصول ہونے پر موصوف نے زرداری صاحب کو بتائے بغیر اس رپورٹ کو ریجیکٹ کر دیا اور مملکت کے مفادات کے منافی قرار دیکر واپس بھجوا دیا کیونکہ یہ رپورٹ بدماشیہ کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتی تھی۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ بجائے اپنی بددیانتی پر شرمندہ ہوتے قریشی صاحب نے ریمنڈ ڈیوس کی سہولتکاری کا الزام بھی زرداری پر ڈالا اور کٹ لیئے۔ یہ تو سابق CIA ڈائریکٹر لیون پینیٹا کی کتاب آئی تو کھلا کہ اُسنے ڈی جی ISI جنرل شجاع پاشا کو CIA ہیڈکوارٹر لینگلے، ورجینیاء میں طلب کر کے ریمنڈ ڈیویس کی بحفاظت امریکی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا اور ریمنڈ ڈیویس کی رہائی کے موقع پر جرنیل موصوف اسی عدالت میں بیٹھے لیون پینیٹا کو SMS پر کارکردگی رپورٹ دے رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی کو کسی صحافی نے یہ نہیں پوچھا کہ اس نے بِنا زرداری کے علم میں لائے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کس کے کہنے پر ریجیکٹ کی تھی۔

تیسرے درجے کے سیانے عموماً صحافیوں، شعراء، ادیبوں، شاعروں اور صاحب الرائے طبقات پر معمور ہوتے ہیں جو بدماشیہ کے لمبے ہاتھ دکھا کر بلکہ انجام بالخیر سے ڈرا کر رائے عامہ کو انکے حق میں متوازن رکھتے ہیں۔ اپنے پیش رووں کیطرح یہ بھی مختلف سیاسی جماعتوں اور لسانی گروہوں میں شامل ہوتے ہیں اور بندوقچی کیلئے معاشرتی نبض کا کام کرتے ہیں۔ یہ اندر کی باتیں لوگوں کو سنا کر اپنے کارآمد ہونے کا تاثر دیتے ہیں جبکہ در حقیقت جانے انجانے میں معاشرتی زوال کے محافظ بنے ہوتے ہیں۔

الحال آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر انہی سیانوں کی شاندار کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے اور ہر طرف نظریاتی کارکنان کے زبردست ردِ عمل کے باوجود یہ بل بھاری اکثریت سے قومی اسمبلی سے پاس بھی ہو گیا ہے۔ بظاہر لگتا یہ ہے کہ بلاول بھٹو اپنے کارکنان کی آواز پر عملدرآمد کرنا چاہتا تھا مگر بوجوہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب مریم نواز نے اسی مدعے پر مسلم لیگ ن کی نائب صدارت سے استغفی دیدیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان کے نزدیک ن لیگی قیادت لیٹی ہوئی ہے جبکہ ن لیگی لیڈران کے بقول پیپلز پارٹی بدماشیہ کیساتھ ملی ہوئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے لیڈران اپنی اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنے سے گھبرا رہے ہیں کیونکہ موجودہ سیاسی تناظر میں جبکہ فیصل واوڈا جیسے وزیر چاٹنے کیلئے بُوٹ ساتھ لیکر گھومتے ہیں، ان جماعتوں کا چھانٹی شروع کرنا بدماشیہ اتحاد کے کام کو مزید آسان کر دے گا۔ نئے پاکستان نے اب کی بار ماشاءاللہ سے بوٹ پالشیوں کی وہ نسل متعارف کرائی ہے کہ اس سے سستی صرف خاموشی ہی ہو سکتی ہے۔ ایسے میں اگر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں اپنی صفوں سے بدماشیہ ایجنٹوں کو نکال باہر کرتے ہیں تو یہ موجودہ بوٹ چاٹ حکمرانوں کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہو گا اور اسی لیئے دونوں جماعتوں کی قیادت خاموش ہے۔ بلاول بھٹو آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی ووٹنگ میں شامل نہیں ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ نوجوان قائد فیصلہ مسلط کیئے جانے پر کافی سیخ پاء ہیں یہاں تک کہ پہلے سے شیڈولڈ پروگرامز کو کینسل کر کے عمرے کی نیت باندھ کر سعودی عرب چلے گئے ہیں
دوسری طرف مریم نواز کے برطانوی ویزے کی اطلاعات پر وفاقی کابینہ نے انکا نام دوبارہ ای سی ایل میں ڈال دیا ہے

قرائین بتاتے ہیں کہ سیانے اور بدماشیہ بیشک نالائق حکمرانوں کی کارکردگی پر بھِنائے ہوئے ہیں مگر ایسے ہاتھ بندھے غلماء پہلی بار ہاتھ آنے پر خوش بھی بہت ہیں اور اب کی بار اپوزیشن کی ناک زمین پر رگڑنے کے درپے ہو گئے ہیں۔ موجودہ سیاسی بیحودگی کسی اصول یا ضابطے کی پابند نہیں اور اپوزیشن کو سپیس دینے کی بجائے اسکا سانس گھونٹا جا رہا ہے جسکا نتیجہ بغاوت سے لیکر بغاوت تک کچھ بھی نکل سکتا ہے۔ آزادی کیلئے اگر سیانوں کی بلّی ضروری ہے تو حکمران جتنے بھی چاپلوس نکل آئیں، جب بڑی عید آتی ہے تو قربانی ہو ہی جاتی ہے اور اس قربانی کے اسباب اللہ کی ذات مہیا کرتی ہے۔۔ پھر نہ کوئی بندوقچی کام آتی ہے نہ ہی کوئی مخلوق کیونکہ اسوقت امرِ الہی آ جاتا ہے ویسے بھی تہتر سال کے بدماشیہ اتحاد کو اکتیس برس کے بلاول اور 46 برس کی مریم سے لڑائی نہیں کرنی چاہیئے۔ نوجوان بحرحال نوجوان ہوتے ہیں۔

علی عبد اللہ ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نِکّی
  • ہڈیاں اور پھول
  • میں عورت ذات ہوں
  • شرم کی کیا بات ہے، شرمائیں کیوں ؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مسز گل
پچھلی پوسٹ
رات تو کٹ گئی درد کی

متعلقہ پوسٹس

سیاست کو چھوڑو ریاست کو بچالو

اگست 28, 2022

آخر انسان ایسا کیوں ھوتا ھے؟

دسمبر 13, 2024

جدائی ختم ہوئی جگ ہنسائی ختم ہوئی

مارچ 3, 2022

آپ کتنے حسین لگتے ہیں

جنوری 2, 2022

وہ پودے جن کی خوشبو سےمچھر دور بھاگتے ہیں

مئی 26, 2023

ہوا چلی تو بے کلی

نومبر 3, 2024

منزل بے نشاں

دسمبر 1, 2019

سیب، طاقت اور قوت کا خزانہ

اکتوبر 10, 2021

طلاق کے اہم شرعی مسائل

نومبر 26, 2020

کچھ باتیں ضروی ہیں

ستمبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں...

اگست 15, 2020

یہی ہے دل کا تقاضا

جولائی 5, 2025

جھلّی چلی گئی

جنوری 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں