117
بے شمارو میرے یارو الوداع
مرغ زارو چاند تارو الوداع
میں چلا آرام کرنے کچھ گھڑی
بے سکونو بے قرارو الوداع
اب رہوں گا نفرتوں کے شہر میں
چاہتوں کے دعوہ دارو الوداع
خوب گزری جو بھی گزری ساتھ میں
غم کے مارو رشتہ دارو الوداع
اے مری ہر رات کے ہم راہیو
اے ستارو غم گسارو الوداع
موج نے اب ساحلوں کے درمیاں
پھینک ڈالا اے کنارو الوداع
رات کی آغوش ہے اور ہجر ہے
ہوش کے الجھے مدارو الوداع
لو مبارک ہو تمہیں یہ بزم اب
بس کرو اب مت پکارو الوداع
ساز نغمہ جام بزم دوستاں
زیست کے جھوٹے سہارو الوداع
رقص دانشؔ فکر کے دربار میں
اے جنوں کے ٹھیکیدارو الوداع
دانش عزیز
