29
میرے جیسے اس بستی میں اور بھی پاگل رہتے ہیں
سب نے آنکھیں گروی رکھ کر آدھے خواب خریدے ہیں
کوئل کوا چیل کبوتر طوطا مینا چڑیا مور
شام ڈھلے سب چپ چپ بیٹھے اک دوجے کو تکتے ہیں
دریا ساگر امبر بادل بارش آندھی دھوپ ہوا
سب تیرا بہروپ ہے سائیں تیرا نام ہی جپتے ہیں
خالی کرسی دو کپ چائے سبزہ خوشبو بوندا باندی
صبح سویرے مجھ سے مل کر تیری باتیں کرتے ہیں
ہجر اداسی وحشت آنسو آوارہ پن بے زاری
شوریدہ دل چاک گریباں سب الفت کے جھگڑے ہیں
ساغرؔ میرؔ فرازؔ اور غالبؔ مومنؔ داغؔ قتیلؔ اور فیضؔ
اوڑھ کے مصرعے نظمیں غزلیں چین سکون سے سوتے ہیں
باتیں یادیں راتیں آنکھیں بانہیں آہیں فریادیں
سونے گھر کے اک کونے میں اکثر مل کر روتے ہیں
چاند ستارے جگنو سورج پریاں جن اڑتے پنچھی
سب دھرتی پر آکر دانشؔ اس کے پاؤں کو چھوتے ہیں
دانش عزیز
