110
میرے جیسے اس بستی میں اور بھی پاگل رہتے ہیں
سب نے آنکھیں گروی رکھ کر آدھے خواب خریدے ہیں
کوئل کوا چیل کبوتر طوطا مینا چڑیا مور
شام ڈھلے سب چپ چپ بیٹھے اک دوجے کو تکتے ہیں
دریا ساگر امبر بادل بارش آندھی دھوپ ہوا
سب تیرا بہروپ ہے سائیں تیرا نام ہی جپتے ہیں
خالی کرسی دو کپ چائے سبزہ خوشبو بوندا باندی
صبح سویرے مجھ سے مل کر تیری باتیں کرتے ہیں
ہجر اداسی وحشت آنسو آوارہ پن بے زاری
شوریدہ دل چاک گریباں سب الفت کے جھگڑے ہیں
ساغرؔ میرؔ فرازؔ اور غالبؔ مومنؔ داغؔ قتیلؔ اور فیضؔ
اوڑھ کے مصرعے نظمیں غزلیں چین سکون سے سوتے ہیں
باتیں یادیں راتیں آنکھیں بانہیں آہیں فریادیں
سونے گھر کے اک کونے میں اکثر مل کر روتے ہیں
چاند ستارے جگنو سورج پریاں جن اڑتے پنچھی
سب دھرتی پر آکر دانشؔ اس کے پاؤں کو چھوتے ہیں
دانش عزیز
