101
اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے
کہتا ہے تکلف کیا کرنا ہم تم میں تو پیار کا ناتا ہے
کہتا ہے زیادہ ملنے سے وعدوں کی خلش بڑھ جائے گی
کچھ وعدے وقت پہ بھی چھوڑو دیکھو وہ کیا دکھلاتا ہے
کہتا ہے تمہارا دوش نہ تھا کچھ ہم کو بھی اپنا ہوش نہ تھا
پھر ہنستا ہے پھر روتا ہے پھر چپ ہو کر رہ جاتا ہے
خود اس سے کہا گھر آنے کو اور اس کے بنا مر جانے کو
اور اب جو وہ کچھ آوارہ ہوا جی رہ رہ کر گھبراتا ہے
اے بچو اے ہنسنے والو تاریخ محبت پڑھ ڈالو
دل والے کے دل پر قید نہیں ہر عمر میں ٹھوکر کھاتا ہے
جمیل الدین عالی
